السنن الكبرى للبيهقي
كتاب العدد— عدت کا بیان
باب: تصديق المرأة فيما يمكن فيه انقضاء عدتها باب: جس کم از کم مدت میں عدت کا مکمل ہونا ممکن ہو، اس بارے میں عورت کے قول کی تصدیق کرنے کا بیان۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو مَنْصُورٍ النَّضْرَوِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، نا أَبُو شِهَابٍ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقَالَ: إِنِّي طَلَّقْتُ امْرَأَتِي فَجَاءَتْ بَعْدَ شَهْرَيْنِ فَقَالَتْ: قَدِ انْقَضَتْ عِدَّتِي وَعِنْدَ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ شُرَيْحٌ فَقَالَ: قُلْ فِيهَا، قَالَ: وَأَنْتَ شَاهِدٌ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ قَالَ: نَعَمْ قَالَ: " إِنْ جَاءَتْ بِبِطَانَةٍ مِنْ أَهْلِهَا مِنَ الْعُدُولِ يَشْهَدُونَ أَنَّهَا حَاضَتْ ثَلَاثَ حِيَضٍ وَإِلَّا فَهِيَ كَاذِبَةٌ "، فَقَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " قَالُونُ، بِالرُّومِيَّةِ أَيْ أَصَبْتَ ".شعبی سے روایت ہے کہ ایک شخص علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، اس نے کہا: میں نے اپنی بیوی کو طلاق دی۔ وہ دو مہینوں بعد آئی اور اس نے کہا: میری عدت ختم ہو گئی ہے اور علی رضی اللہ عنہ کے پاس قاضی شریح بھی موجود تھے، علی رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: اس کے بارے میں فیصلہ کہو۔ شریح نے کہا: اے امیر المؤمنین! آپ کی موجودگی میں؟ علی رضی اللہ عنہ نے کہا: ہاں۔ شریح نے کہا: اگر یہ اپنے گھر والوں میں سے قریبی عادل لوگ لے آئے جو اس بات کی گواہی دیں کہ اسے تین حیض آ چکے ہیں (تو اس کی بات درست ہے)، ورنہ یہ جھوٹی ہے۔ علی رضی اللہ عنہ نے کہا: «قَالُونُ» یعنی رومی زبان میں: تم نے درست کہا۔