❮
❯
حدیث نمبر: 15405
وَأَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو مَنْصُورٍ النَّضْرَوِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، نا أَبُو شِهَابٍ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقَالَ: إِنِّي طَلَّقْتُ امْرَأَتِي فَجَاءَتْ بَعْدَ شَهْرَيْنِ فَقَالَتْ: قَدِ انْقَضَتْ عِدَّتِي وَعِنْدَ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ شُرَيْحٌ فَقَالَ: قُلْ فِيهَا، قَالَ: وَأَنْتَ شَاهِدٌ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ قَالَ: نَعَمْ قَالَ: " إِنْ جَاءَتْ بِبِطَانَةٍ مِنْ أَهْلِهَا مِنَ الْعُدُولِ يَشْهَدُونَ أَنَّهَا حَاضَتْ ثَلَاثَ حِيَضٍ وَإِلَّا فَهِيَ كَاذِبَةٌ "، فَقَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " قَالُونُ، بِالرُّومِيَّةِ أَيْ أَصَبْتَ ".
حافظ ثناء اللہ

شعبی سے روایت ہے کہ ایک شخص علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، اس نے کہا: میں نے اپنی بیوی کو طلاق دی۔ وہ دو مہینوں بعد آئی اور اس نے کہا: میری عدت ختم ہو گئی ہے اور علی رضی اللہ عنہ کے پاس قاضی شریح بھی موجود تھے، علی رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: اس کے بارے میں فیصلہ کہو۔ شریح نے کہا: اے امیر المؤمنین! آپ کی موجودگی میں؟ علی رضی اللہ عنہ نے کہا: ہاں۔ شریح نے کہا: اگر یہ اپنے گھر والوں میں سے قریبی عادل لوگ لے آئے جو اس بات کی گواہی دیں کہ اسے تین حیض آ چکے ہیں (تو اس کی بات درست ہے)، ورنہ یہ جھوٹی ہے۔ علی رضی اللہ عنہ نے کہا: «قَالُونُ» یعنی رومی زبان میں: تم نے درست کہا۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب العدد / حدیث: 15405
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»