السنن الكبرى للبيهقي
كتاب العدد— عدت کا بیان
جماع أبواب عدة المدخول بها -- باب: ما جاء في قوله عز وجل: والمطلقات يتربصن بأنفسهن ثلاثة قروء ومن قال: الأقراء الأطهار وما دل عليه من الآثار باب: مدخول بہا عورت کی عدت کے ابواب کا جامع بیان۔ -- باب: اللہ عزوجل کے فرمان ”اور طلاق یافتہ عورتیں تین قروء تک اپنے آپ کو روکے رکھیں“ کے متعلق وارد شدہ روایات، ان علماء کا موقف کہ ”اقراء“ سے مراد طہر (پاکی) ہے، اور اس پر دلالت کرنے والے آثار کا بیان۔
حدیث نمبر: 15387
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ قَالَا: نا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أنا الرَّبِيعُ، أنا الشَّافِعِيُّ، أنا مَالِكٌ، ح وَأنا أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ جَعْفَرٍ، نا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، نا ابْنُ بُكَيْرٍ، نا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ: " إِذَا طَلَّقَ الرَّجُلُ امْرَأَتَهُ فَدَخَلَتْ فِي الدَّمِ مِنَ الْحَيْضَةِ الثَّالِثَةِ فَقَدْ بَرِئَتْ مِنْهُ وَبَرِئَ مِنْهَا، وَلَا تَرِثُهُ وَلَا يَرِثُهَا ".حافظ ثناء اللہ
نافع سے روایت ہے، وہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا کہ جب آدمی اپنی عورت کو طلاق دے اور وہ تیسرے حیض کے خون میں داخل ہو جائے تو وہ اس سے بَرِی ہے اور وہ اس سے بَرِی ہے، اور نہ بیوی خاوند کی وارث بن سکتی ہے اور نہ ہی خاوند اس کا وارث بن سکتا ہے۔