السنن الكبرى للبيهقي
كتاب العدد— عدت کا بیان
جماع أبواب عدة المدخول بها -- باب: ما جاء في قوله عز وجل: والمطلقات يتربصن بأنفسهن ثلاثة قروء ومن قال: الأقراء الأطهار وما دل عليه من الآثار باب: مدخول بہا عورت کی عدت کے ابواب کا جامع بیان۔ -- باب: اللہ عزوجل کے فرمان ”اور طلاق یافتہ عورتیں تین قروء تک اپنے آپ کو روکے رکھیں“ کے متعلق وارد شدہ روایات، ان علماء کا موقف کہ ”اقراء“ سے مراد طہر (پاکی) ہے، اور اس پر دلالت کرنے والے آثار کا بیان۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ، وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ قَالَا: نا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أنا الرَّبِيعُ، أنا الشَّافِعِيُّ، أنا مَالِكٌ، ح وَأنا أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي، نا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، نا ابْنُ بُكَيْرٍ، نا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، وَزَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، أَنَّ الْأَحْوَصَ هَلَكَ بِالشَّامِ حِينَ دَخَلَتِ امْرَأَتُهُ فِي الدَّمِ مِنَ الْحَيْضَةِ الثَّالِثَةِ وَكَانَ قَدْ طَلَّقَهَا وَكَتَبَ مُعَاوِيَةُ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ إِلَى زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ يَسْأَلُهُ عَنْ ذَلِكَ فَكَتَبَ إِلَيْهِ زَيْدٌ: " أَنَّهَا إِذَا دَخَلَتْ فِي الدَّمِ مِنَ الْحَيْضَةِ الثَّالِثَةِ فَقَدْ بَرِئَتْ مِنْهُ وَبَرِئَ مِنْهَا وَلَا تَرِثُهُ وَلَا يَرِثُهَا " وَفِي رِوَايَةِ الشَّافِعِيِّ وَقَدْ كَانَ طَلَّقَهَا وَالْبَاقِي سَوَاءٌ.سلیمان بن یسار رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ جب احوص شام میں فوت ہوئے، جبکہ ان کی بیوی تیسرے حیض کے خون میں داخل ہو چکی تھی اور انہوں نے اسے طلاق دے دی تھی۔ سیدنا معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کی طرف (خط) لکھا، وہ اس کے بارے میں ان سے سوال کر رہے تھے۔ سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے ان کی طرف لکھا کہ جب وہ تیسرے حیض کے خون میں داخل ہوئی تو وہ اس سے بَرِی ہو گئی اور وہ اس سے بَرِی ہو گیا، نہ وہ اس کی وارث بن سکتی ہے اور نہ ہی وہ (خاوند) اس کا وارث بن سکتا ہے اور امام شافعی رحمہ اللہ کی روایت میں «وَقَدْ كَانَ طَلَّقَهَا» ”اور وہ اسے طلاق دے چکا تھا“ کے الفاظ ہیں، باقی اسی طرح ہے۔