السنن الكبرى للبيهقي
كتاب اللعان— لعان کا بیان
باب: لا لعان ولا حد في التعريض باب: اس بیان میں کہ اشارے کنائے میں تہمت لگانے پر نہ لعان ہے اور نہ ہی حد لاگو ہوتی ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ مُحَمَّدٍ الْفَقِيهُ الشِّيرَازِيُّ قَالَ: ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ نا مُحَمَّدُ بْنُ شَاذَانَ، نا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، نا سُفْيَانُ، ح وَأنا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي قَالَا: نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ أنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنا الشَّافِعِيُّ، أنا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ أَعْرَابِيًّا مِنْ بَنِي فَزَارَةَ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: إِنَّ امْرَأَتِي وَلَدَتْ غُلَامًا ⦗٦٧٥⦘ أَسْوَدَ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " هَلْ لَكَ مِنْ إِبِلٍ؟ " قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: " فَمَا أَلْوَانُهَا؟ " قَالَ: حُمْرٌ، قَالَ: " هَلْ فِيهَا مِنْ أَوْرَقَ؟ " قَالَ: إِنَّ فِيهَا لَوُرْقًا، قَالَ: فَأَنَّى أَصَابَهَا ذَلِكَ؟ " قَالَ: لَعَلَّهُ عِرْقٌ نَزَعَهُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " وَهَذَا لَعَلَّهُ نَزَعَهُ عِرْقٌ " لَفْظُ حَدِيثِ الشَّافِعِيِّ وَفِي رِوَايَةِ قُتَيْبَةَ جَاءَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي فَزَارَةَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى الله عَلَيْهِ وآله وَسَلَّمَ وَقَالَ: عَسَى أَنْ يَكُونَ نَزَعَهُ عِرْقٌ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ قُتَيْبَةَ وَجَمَاعَةٍ.سعید بن مسیب سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ بنو فزارہ کے ایک دیہاتی نے نبی ﷺ کے پاس آ کر کہا کہ میری بیوی نے سیاہ بچہ جنم دیا ہے، آپ ﷺ نے پوچھا: ”کیا تیرے پاس اونٹ ہیں؟“ اس نے کہا: ہاں۔ آپ ﷺ نے پوچھا: ”ان کی رنگت کیا ہے؟“ اس نے کہا: سرخ۔ آپ ﷺ نے پوچھا: ”ان میں خاکستری رنگ کے اونٹ بھی ہیں؟“ اس نے کہا: ان میں خاکستری رنگ کا اونٹ بھی ہے، آپ ﷺ نے پوچھا: ”یہ کہاں سے آ گیا؟“ اس نے کہا: شاید کسی رگ کی وجہ سے۔ نبی ﷺ نے فرمایا: ”یہ بھی کسی رگ کی وجہ سے ہو سکتا ہے۔“
(ب) قتیبہ کی روایت میں ہے کہ بنو فزارہ کا ایک شخص نبی ﷺ کے پاس آیا اور آپ ﷺ نے فرمایا: ”ممکن ہے کسی رگ نے اس کو کھینچا ہو۔“