أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ قَالَا: نا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنا الشَّافِعِيُّ، أنا سَعِيدُ بْنُ سَالِمٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، أَنَّ يَحْيَى بْنَ سَعِيدٍ حَدَّثَهُ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا " أَنَّ رَجُلًا جَاءَ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ وَاللهِ مَالِي عَهْدٌ بِأَهْلِي مُنْذُ عَفَارِ النَّخْلِ قَالَ: وَعَفَارُهَا أَنَّهَا إِذَا كَانَتْ تُؤَبَّرُ تُعْفَرُ أَرْبَعِينَ يَوْمًا لَا تُسْقَى بَعْدَ الْإِبَّارِ قَالَ: فَوَجَدْتُ مَعَ امْرَأَتِي رَجُلًا قَالَ: وَكَانَ زَوْجُهَا مُصْفَرًّا حَمْشَ السَّاقَيْنِ سَبِطَ الشَّعْرِ وَالَّذِي رُمِيَتْ بِهِ خَدْلًا إِلَى ⦗٦٦٩⦘ السَّوَادِ جَعْدًا قَطَطًا مُسْتَهًا، قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اللهُمَّ بَيِّنْ " ثُمَّ لَاعَنَ بَيْنَهُمَا فَجَاءَ شَبِيهًا بِالرَّجُلِ الَّذِي رُمِيَتْ بِهِ " رَوَاهُ أَبُو الزِّنَادِ عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَاعَنَ بَيْنَ الْعَجْلَانِيِّ وَامْرَأَتِهِ وَكَانَتْ حَامِلًا وَكَانَ الَّذِي رُمِيَتْ بِهِ ابْنَ السَّحْمَاءِ.قاسم بن محمد، سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل کرتے ہیں کہ ایک شخص رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور اس نے عرض کی: ”اے اللہ کے رسول! اللہ کی قسم! میرا اپنی بیوی سے کوئی ملاپ نہیں ہوا، جب سے کھجور کو پہلی مرتبہ سیراب کیا گیا تھا،“ (راوی) فرماتے ہیں کہ «عَفَارِيَةُ» ”عفاریہ“ سے مراد وہ وقت ہے جب سے کھجوروں کی تابیر کی گئی تھی۔ چالیس دن تک کھجور پر گابھا لگایا گیا تھا تو قلم لگانے کے بعد اس کو سیراب نہیں کیا گیا تھا۔ اس شخص نے کہا: ”میں نے اپنی بیوی کے ساتھ ایک شخص کو پایا،“ اور اس کا خاوند زرد رنگ، باریک پنڈلیوں اور سیدھے بالوں والا تھا، جبکہ وہ شخص جس کے ساتھ تہمت لگائی گئی تھی، وہ گہرے سیاہ رنگ اور گھنگھریالے بالوں والا تھا۔ تو رسول اللہ ﷺ نے دعا فرمائی: «اللَّهُمَّ بَيِّنْ» ”اے اللہ! معاملے کو واضح فرما۔“ پھر ان دونوں کے درمیان لعان کروایا گیا، تو اس عورت نے اس شخص کے مشابہ بچہ جنم دیا جس کے ساتھ تہمت لگائی گئی تھی۔ ابوالزناد، قاسم بن محمد سے اور وہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا کہ آپ ﷺ نے میاں بیوی کے درمیان لعان کروایا جبکہ وہ عورت حاملہ تھی۔