أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ أنا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّزَّازُ نا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ الْمُنَادِي، نا إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ، نا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ قَالَ: سُئِلْتُ عَنِ الْمُتَلَاعِنَيْنِ، فِي زَمَنِ مُصْعَبِ بْنِ الزُّبَيْرِ يُفَرَّقُ بَيْنَهُمَا؟ فَمَا دَرَيْتُ مَا أَقُولُ، فَقُمْتُ إِلَى مَنْزِلِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ فَاسْتَأْذَنْتُ عَلَيْهِ فَقِيلَ هُوَ نَائِمٌ، فَسَمِعَ صَوْتِي فَقَالَ: ابْنُ جُبَيْرٍ، فَأْذَنُوا لَهُ، قَالَ: فَدَخَلْتُ عَلَيْهِ، فَقَالَ: مَا جَاءَ بِكَ هَذِهِ السَّاعَةَ إِلَّا حَاجَةٌ، فَإِذَا هُوَ مُفْتَرِشٌ بَرْذَعَةَ رَحْلِهِ مُتَوَسِّدًا بِوِسَادَةٍ حَشْوُهَا لِيفٌ أَوْ سَلَبٌ قَالَ: السَّلَبُ يَعْنِي لِيفَ الْمَقْلِ، فَقُلْتُ: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ، الْمُتَلَاعِنَيْنِ يُفَرَّقُ بَيْنَهُمَا؟ فَقَالَ: سُبْحَانَ اللهِ، نَعَمْ، إِنَّ أَوَّلَ مَنْ سَأَلَ عَنْ هَذَا فُلَانُ بْنُ فُلَانٍ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ أَرَأَيْتَ لَوْ أَنَّ أَحَدَنَا رَأَى عَلَى امْرَأَتِهِ رَجُلًا كَيْفَ يَصْنَعُ إِنْ تَكَلَّمَ تَكَلَّمَ بِأَمْرٍ عَظِيمٍ، وَإِنْ سَكَتَ سَكَتَ عَلَى مِثْلِ ذَلِكَ، قَالَ: فَلَمْ يُجِبْهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا كَانَ بَعْدَ ذَلِكَ ⦗٦٦٥⦘ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ الَّذِي كُنْتُ سَأَلْتُ عَنْهُ قَدِ ابْتُلِيتُ بِهِ قَالَ: فَأَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ الْآيَاتِ الَّتِي فِي سُورَةِ النُّورِ {وَالَّذِينَ يَرْمُونَ أَزْوَاجَهُمْ} [النور: ٦] إِلَى آخِرِ الْآيَاتِ قَالَ: فَدَعَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالرَّجُلِ فَتَلَا عَلَيْهِ وَوَعَظَهُ وَأَخْبَرَهُ أَنَّ عَذَابَ الدُّنْيَا أَهْوَنُ مِنْ عَذَابِ الْآخِرَةِ، فَقَالَ: وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ مَا كَذَبْتُ عَلَيْهَا، قَالَ: ثُمَّ دَعَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْمَرْأَةِ فَتَلَا عَلَيْهَا وَوَعَظَهَا وَذَكَّرَهَا وَأَخْبَرَهَا أَنَّ عَذَابَ الدُّنْيَا أَهْوَنُ مِنْ عَذَابِ الْآخِرَةِ، فَقَالَتْ: لَا وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ مَا صَدَقَكَ، لَقَدْ كَذَبَكَ، قَالَ: فَبَدَأَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالرَّجُلِ فَشَهِدَ أَرْبَعَ شَهَادَاتٍ بِاللهِ أَنَّهُ لَمِنَ الصَّادِقِينَ وَفِي الْخَامِسَةِ أَنَّ لَعْنَةَ اللهِ عَلَيْهِ إِنْ كَانَ مِنَ الْكَاذِبِينَ، ثُمَّ ثَنَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْمَرْأَةِ فَشَهِدَتْ أَرْبَعَ شَهَادَاتٍ بِاللهِ أَنَّهُ لَمِنَ الْكَاذِبِينَ وَالْخَامِسَةَ أَنَّ غَضَبَ اللهِ عَلَيْهَا إِنْ كَانَ مِنَ الصَّادِقِينَ، قَالَ: ثُمَّ فَرَّقَ بَيْنَهُمَا أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ.سعید بن جبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مصعب بن زبیر رضی اللہ عنہ کے دور میں مجھ سے دو لعان کرنے والوں کے بارے میں سوال کیا گیا کہ کیا ان کے درمیان تفریق (جدائی) کروا دی جائے گی؟ میں نہ سمجھ سکا کہ میں کیا جواب دوں، چنانچہ میں سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے گھر گیا اور اندر آنے کی اجازت طلب کی تو بتایا گیا کہ وہ سو رہے ہیں۔ انہوں نے میری آواز سن لی تو فرمایا: ”ابن جبیر کو اجازت دو۔“ راوی کہتے ہیں: میں ان کے پاس گیا تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہما فرمانے لگے: ”تم اس وقت کس کام سے آئے ہو؟“ وہ اس وقت اپنی سواری کا کپڑا بچھائے ہوئے تھے اور کھجور کے پتوں (ریشوں) سے بھرے ہوئے چمڑے کے تکیے سے ٹیک لگائے ہوئے تھے۔ میں نے عرض کی: اے ابو عبدالرحمن! کیا لعان کرنے والوں کے درمیان تفریق کر دی جائے گی؟ انہوں نے فرمایا: ”«سُبْحَانَ اللّٰهِ» ”اللہ پاک ہے!“ ہاں، کیونکہ سب سے پہلے فلاں بن فلاں نے آ کر نبی ﷺ سے سوال کیا تھا کہ اے اللہ کے رسول ﷺ! آپ کا کیا خیال ہے، اگر ہم میں سے کوئی اپنی بیوی کے ساتھ کسی مرد کو دیکھ لے تو کیا کرے؟ اگر وہ بات کرتا ہے تو ایک بہت بڑے (سنگین) معاملے کے بارے میں کلام کرے گا، اور اگر وہ خاموش رہتا ہے تو اتنے بڑے معاملے پر ہی خاموش رہے گا۔“ راوی کہتے ہیں کہ نبی ﷺ نے اسے کوئی جواب نہ دیا۔ پھر جب وہ دوبارہ نبی ﷺ کے پاس آیا تو اس نے عرض کی: ”اے اللہ کے رسول ﷺ! جس مسئلے کے بارے میں میں نے آپ ﷺ سے پوچھا تھا، میں خود اس میں مبتلا کر دیا گیا ہوں۔“ تب اللہ رب العزت نے سورہ نور کی یہ آیات نازل فرمائیں: ﴿وَالَّذِينَ يَرْمُونَ أَزْوَاجَهُمْ﴾ [سورة النور: 6]۔ راوی کہتے ہیں: نبی ﷺ نے اس شخص کو بلا کر اسے یہ آیات سنائیں اور واضح نصیحت فرمائی اور فرمایا: ”دنیا کا عذاب آخرت کے عذاب سے بہت ہلکا ہے۔“ اس نے عرض کی: اس ذات کی قسم جس نے آپ ﷺ کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا! میں نے اس پر جھوٹ نہیں بولا۔ راوی کہتے ہیں: پھر نبی ﷺ نے اس عورت کو بلوایا اور اس کے سامنے بھی یہ آیات تلاوت فرمائیں، اسے واضح نصیحت کی اور فرمایا: ”دنیا کا عذاب آخرت کے عذاب سے بہت ہلکا ہے۔“ اس نے کہا: اس ذات کی قسم جس نے آپ ﷺ کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا! اس مرد نے جھوٹ بولا ہے۔ راوی کہتے ہیں: نبی ﷺ نے مرد سے ابتدا فرمائی، اس نے چار مرتبہ اللہ کی گواہی دی (قسم کھائی) کہ وہ سچوں میں سے ہے اور پانچویں بار کی گواہی میں اس نے کہا کہ اس پر اللہ کی لعنت ہو اگر وہ جھوٹا ہو۔ پھر نبی ﷺ عورت کی طرف متوجہ ہوئے، اس نے چار مرتبہ اللہ کی گواہی دی کہ مرد جھوٹا ہے اور پانچویں بار کی گواہی میں کہا کہ اس پر اللہ کا غضب ہو اگر مرد سچوں میں سے ہو۔ راوی کہتے ہیں: پھر آپ ﷺ نے ان دونوں کے درمیان تفریق (جدائی) کروا دی۔