السنن الكبرى للبيهقي
كتاب اللعان— لعان کا بیان
باب: لعان الزوجين بمحضر طائفة من المؤمنين باب: میاں بیوی کا مومنوں کی ایک جماعت کی موجودگی میں لعان کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 15339
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، نا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ إِمْلَاءً، نا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، نا الْحُمَيْدِيُّ، نا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ قَالَ: سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ، يَقُولُ: سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لِلْمُتَلَاعِنَيْنِ: " حِسَابُكُمَا عَلَى اللهِ أَحَدَكُمَا كَاذِبٌ لَا سَبِيلَ لَكَ عَلَيْهَا " فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ مَالِي مَالِي قَالَ: " لَا مَالَ لَكَ إِنْ كُنْتَ صَدَقْتَ فَهُوَ بِمَا اسْتَحْلَلْتَ مِنْ فَرْجِهَا وَإِنْ كُنْتَ كَذَبْتَ عَلَيْهَا فَذَاكَ أَبْعَدُ لَكَ فِيهِ أَوْ فِيهَا " أَخْرَجَاهُ فِي الصَّحِيحِ، كَمَا مَضَى وَقَدْ رَوَى قِصَّةَ الْمُتَلَاعِنَيْنِ عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْعُودٍ، وَعَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ، وَعَبْدُ اللهِ بْنُ عَبَّاسٍ، وَأَنَسُ بْنُ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ وَفِي ذَلِكَ دَلَالَةٌ عَلَى شُهُودِهِمْ مَعَ غَيْرِهِمْ تَلَاعُنَهُمَا وَاللهُ تَعَالَى أَعْلَمُ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا، آپ ﷺ نے دو لعان کرنے والوں کے بارے میں فرمایا کہ ”تمہارا حساب اللہ کے سپرد ہے۔ تم میں سے ایک جھوٹا ہے، خاوند کو بیوی پر کوئی اختیار نہیں۔“ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول ﷺ! میرا مال! میرا مال! آپ ﷺ نے فرمایا: ”تیرا کوئی مال نہیں، اگر تو سچا ہے تو یہ مال اس کی شرمگاہ کو حلال کرنے کے عوض گیا اور اگر تو نے اس پر جھوٹ بولا ہے تو یہ اس سے بھی دور کی بات ہے۔“