السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحيض— حیض کا بیان
باب: ما روي في كفارة من أتى امرأته حائضا باب: اس شخص کے کفارے کے بارے میں مروی احادیث کا بیان جس نے اپنی بیوی سے حالتِ حیض میں صحبت کی
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْهَالِ ثنا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ثنا عَطَاءٌ الْعَطَّارُ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الَّذِي يَأْتِي امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ " يَتَصَدَّقُ بِدِينَارٍ وَإِنْ لَمْ يَجِدْ فَنِصْفِ دِينَارٍ " عَطَاءٌ هُوَ ابْنُ عَجْلَانَ ضَعِيفٌ مَتْرُوكٌ وَقَدْ قِيلَ عَنْهُ عَنْ عَطَاءٍ وَعِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ وَلَيْسَ بِشَيْءٍ وَرُوِيَ عَنْ عَطَاءٍ وَعِكْرِمَةَ أَنَّهُمَا قَالَا: لَا شَيْءَ عَلَيْهِ يَسْتَغْفِرُ اللهَ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ قَالَ أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ: جُمْلَةُ هَذِهِ الْأَخْبَارِ مَرْفُوعُهَا وَمَوقُوفُهَا يَرْجِعُ إِلَى عَطَاءٍ الْعَطَّارِ وَعَبْدِ الْحَمِيدِ وَعَبْدِ الْكَرِيمِ أَبِي أُمَيَّةَ وَفِيهِمْ نَظَرٌ ⦗٤٧٥⦘ قَالَ الشَّيْخُ: وَقَدْ قِيلَ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ عَنْ عَطَاءٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ مَوْقُوفًا وَإِنْ كَانَ مَحْفُوظًا فَهُوَ مِنْ قَوْلِ ابْنِ عَبَّاسٍ يَصِحُّ.سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی ﷺ سے اس آدمی کے متعلق روایت کرتے ہیں جو حیض کی حالت میں اپنی بیوی کے پاس آتا ہے کہ ”وہ ایک دینار صدقہ کرے گا۔ اگر وہ (دینار) نہ پائے تو آدھا دینار۔“ عطاء بن عجلان ضعیف اور متروک ہے۔ اس سے عطاء اور عکرمہ عن ابن عباس کی سند سے بھی بیان کیا گیا ہے اور وہ کوئی چیز نہیں۔ عطاء اور عکرمہ سے روایت ہے کہ اس پر کوئی چیز نہیں، وہ اللہ تعالیٰ سے استغفار کرے گا۔ ان تمام مرفوع اور موقوف روایات کا منبع عطاء العطار، عبدالحمید اور عبدالکریم ابو امیہ ہیں، یہ محلِ نظر ہیں (ان پر جرح کی گئی ہے)۔ شیخ کہتے ہیں: ابن جریج عن عطاء عن ابن عباس رضی اللہ عنہما کی سند سے موقوف بھی بیان کیا گیا ہے، اگر یہ محفوظ ہو تو ابن عباس رضی اللہ عنہما کے قول کے طور پر صحیح ہے۔