السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الظهار— ظہار کا بیان
باب: لا يجزي أن يطعم أقل من ستين مسكينا كل مسكين مدا من طعام بلده باب: اس بیان میں کہ ساٹھ مساکین سے کم کو کھانا کھلانا کفایت نہیں کرتا، اور ہر مسکین کو اس کے شہر کی خوراک میں سے ایک مد دیا جائے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ أنا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّزَّازُ نا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ يَزِيدَ الرِّيَاحِيُّ، نا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ، نا عَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَوْبَانَ، وَأَبِي سَلَمَةَ أَنَّ سَلَمَةَ بْنِ صَخْرٍ الْبَيَاضِيِّ جَعَلَ امْرَأَتَهُ عَلَيْهِ كَظَهْرِ أُمِّهِ إِنْ غَشِيَهَا حَتَّى يَمْضِيَ رَمَضَانُ، فَلَمَّا مَضَى النِّصْفُ مِنْ رَمَضَانَ سَمُنَتِ الْمَرْأَةُ وَتَرَبَّعَتْ فَأَعْجَبَتْهُ فَغَشِيَهَا لَيْلًا ثُمَّ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ: " أَعْتِقْ رَقَبَةً " فَقَالَ: لَا أَجِدُ فَقَالَ: " صُمْ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ " فَقَالَ: لَا أَسْتَطِيعُ قَالَ: " أَطْعِمْ سِتِّينَ مِسْكِينًا " قَالَ: لَا أَجِدُ قَالَ: فَأُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَرَقٍ فِيهِ خَمْسَةَ عَشَرَ صَاعًا أَوْ سِتَّةَ عَشَرَ صَاعًا فَقَالَ: " تَصَدَّقْ بِهَذَا عَلَى سِتِّينَ مِسْكِينًا " وَكَذَلِكَ رَوَاهُ إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ عَنْ أَبِي عَامِرٍ.محمد بن عبدالرحمن بن ثوبان اور ابو سلمہ رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ سلمہ بن صخر بیاضی رضی اللہ عنہ نے اپنی بیوی سے رمضان کے گزرنے تک ظہار کر لیا، جب نصف رمضان گزر گیا اور عورت موٹی تازی اور خوش حال ہو گئی تو سلمہ رضی اللہ عنہ کو اچھی لگی اور وہ رات کے وقت اس پر واقع ہو گئے۔ پھر نبی ﷺ کو آ کر بتا دیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ایک گردن آزاد کرو۔“ سلمہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میرے پاس نہیں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”دو ماہ کے مسلسل روزے رکھ لو۔“ کہتے ہیں: میں اس کی طاقت نہیں رکھتا۔ فرمایا: ”ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلا دو۔“ سلمہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میرے پاس نہیں، آپ ﷺ کے پاس کھجور کا ایک ٹوکرہ لایا گیا جس میں ١٥ یا ١٦ صاع کھجور تھی، آپ ﷺ نے فرمایا: ”ساٹھ مسکینوں پر صدقہ کر دو۔“