السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الظهار— ظہار کا بیان
باب: لا يقربها حتى يكفر باب: اس بیان میں کہ جب تک وہ کفارہ ادا نہ کر دے اس (بیوی) کے قریب نہ جائے۔
قَالَ اللهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى: {مِنْ قَبْلِ أَنْ يَتَمَاسَّا} [المجادلة: 3] قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: فَإِذَا كَانَتِ الْمُمَاسَّةُ قَبْلَ الْكَفَّارَةِ فَذَهَبَ الْوَقْتُ لَمْ تَبْطُلِ الْكَفَّارَةُ وَلَمْ نَزِدْ عَلَيْهِ فِيهَا كَمَا يُقَالُ لَهُ أَدِّ الصَّلَاةَ فِي وَقْتِ كَذَا وَقَبْلَ وَقْتِ كَذَا فَيَذْهَبُ الْوَقْتُ فَيُؤَدِّيهَا لِأَنَّهَا فَرْضٌ عَلَيْهِ، وَلَا يُقَالُ لَهُ زِدْ فِيهَا لِذَهَابِ الْوَقْتِ.اللہ تبارک و تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿مِنْ قَبْلِ أَنْ يَتَمَاسَّا﴾ ”اس سے پہلے کہ وہ دونوں ایک دوسرے کو ہاتھ لگائیں۔“ [سورة المجادلة: 3]
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”پس اگر ہمبستری کفارہ سے پہلے ہو جائے اور (کفارہ کا) وقت گزر جائے تو کفارہ باطل نہیں ہوگا، اور ہم اس پر اس (کفارے) میں کوئی اضافہ نہیں کریں گے، جیسے کسی سے کہا جائے کہ فلاں وقت میں اور فلاں وقت سے پہلے نماز ادا کرو، پھر وقت گزر جائے تو وہ اسے (بعد میں) ادا کرے گا، کیونکہ وہ اس پر فرض ہے، اور اس سے یہ نہیں کہا جائے گا کہ وقت گزر جانے کی وجہ سے اس میں اضافہ کرو۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، أنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دُرُسْتَوَيْهِ، نا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، نا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، نا ابْنُ نُمَيْرٍ، نا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ صَخْرٍ الْبَيَاضِيِّ قَالَ: كُنْتُ امْرَأً أَسْتَكْثِرُ مِنَ النِّسَاءِ لَا أَرَى رَجُلًا كَانَ يُصِيبُ مِنْ ذَلِكَ مَا أُصِيبُهُ، فَلَمَّا دَخَلَ رَمَضَانُ ظَاهَرْتُ مِنِ امْرَأَتِي حَتَّى يَنْسَلِخَ رَمَضَانُ فَبَيْنَمَا هِيَ تُحَدِّثُنِي ذَاتَ لَيْلَةٍ فَكُشِفَ لِي مِنْهَا شَيْءٌ فَوَثَبْتُ عَلَيْهَا فَوَاقَعْتُهَا، فَلَمَّا أَصْبَحْتُ غَدَوْتُ عَلَى قَوْمِي فَأَخْبَرْتُهُمْ خَبَرِي فَقُلْتُ لَهُمْ: سَلُوا لِي رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالُوا: مَا كُنَّا لِنَفْعَلَ، إِذًا يَنْزِلُ فِينَا مِنَ اللهِ كِتَابٌ أَوْ يَكُونُ فِينَا مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَوْلٌ فَيَبْقَى عَارُهُ عَلَيْنَا وَلَكِنْ سَوْفَ نُسَلِّمُكَ بِجَرِيرَتِكَ فَاذْهَبْ أَنْتَ فَاذْكُرْ شَأْنَكَ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَخَرَجْتُ حَتَّى جِئْتَهُ فَأَخْبَرْتُهُ الْخَبَرَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَنْتَ بِذَلِكَ؟ " قَالَ: قُلْتُ: أَنَا بِذَلِكَ وَهَذَا أَنَا يَا رَسُولَ اللهِ صَابِرٌ لِحُكْمِ اللهِ عَلَيَّ قَالَ: " فَأَعْتِقْ رَقَبَةً " قَالَ: ⦗٦٣٤⦘ قُلْتُ: وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ مَا أَصْبَحْتُ أَمْلِكُ إِلَّا رَقَبَتِي هَذِهِ، قَالَ: " فَصُمْ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ "، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ وَهَلْ دَخَلَ عَلَيَّ مَا دَخَلَ مِنَ الْبَلَاءِ إِلَّا بِالصَّوْمِ؟ قَالَ: " فَتَصَدَّقْ أَطْعِمْ سِتِّينَ مِسْكِينًا " قَالَ: قُلْتُ: وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ لَقَدْ بِتْنَا لَيْلَتَنَا هَذِهِ مَا لَنَا مِنْ عَشَاءٍ، قَالَ: " فَاذْهَبْ إِلَى صَاحِبِ صَدَقَةِ بَنِي زُرَيْقٍ فَقُلْ لَهُ فَلْيَدْفَعْهَا إِلَيْكَ فَأَطْعِمْ سِتِّينَ مِسْكِينًا وَانْتَفِعْ بِبَقِيَّتِهَا ".سیدنا سلمہ بن صخر بیاضی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں ایسا آدمی تھا جو عورتوں کی بہت زیادہ خواہش رکھتا تھا، میں نے کوئی شخص نہیں دیکھا جو اس کام میں مبتلا ہوتا ہو جس میں میں مبتلا تھا (یعنی شہوت میں)۔ جب رمضان شروع ہوا تو میں نے اپنی بیوی سے ظہار کر لیا یہاں تک کہ رمضان گزر جائے۔ ایک رات وہ میرے پاس بیٹھی باتیں کر رہی تھی کہ اس کے جسم سے کپڑا ہٹ گیا تو میں اس کے ساتھ ہم بستر ہو گیا۔ جب صبح ہوئی تو میں نے اپنی قوم کو بتایا، میں نے ان سے کہا: تم رسول اللہ ﷺ سے میرے لیے سوال کرو۔ انہوں نے کہا: ہم یہ کام نہیں کریں گے کیونکہ یا تو قرآن ہمارے بارے میں نازل ہو جائے گا یا رسول اللہ ﷺ کوئی ایسی بات کہہ دیں گے جو ہمارے لیے باعثِ عار رہے گی، لیکن ہم تمہیں تمہارے حال پر چھوڑتے ہیں، تم خود جا کر اپنی حالت نبی ﷺ کو بیان کرو۔ کہتے ہیں: میں نے نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر بتایا تو آپ ﷺ نے پوچھا: ”کیا تم وہی ہو؟“ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول ﷺ! میں ہی ہوں۔ میرے اوپر (شرعی) حد لگائیے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ایک غلام آزاد کرو۔“ کہتے ہیں: میں نے کہا: اللہ کی قسم! جس نے آپ ﷺ کو حق کے ساتھ مبعوث کیا ہے، میں تو صرف اپنی اس گردن کا ہی مالک ہوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”مسلسل دو مہینے کے روزے رکھو۔“ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول ﷺ! یہ مصیبت میرے اوپر روزوں کی وجہ سے ہی تو آئی ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلاؤ۔“ کہتے ہیں: میں نے کہا: اللہ کی قسم! جس نے آپ ﷺ کو حق کے ساتھ مبعوث کیا ہے، گزشتہ رات ہمارے پاس کھانے کے لیے کچھ نہ تھا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم بنو زریق کے صدقہ وصول کرنے والے کے پاس جاؤ اور اس سے کہنا کہ وہ تمہیں صدقہ دے دے، پھر تم اس میں سے ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلا کر باقی سے خود فائدہ اٹھانا۔“