حدیث نمبر: 15245
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ نا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، نا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى، نا أَبُو حَمْزَةَ الثُّمَالِيُّ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ: " كَانَ الرَّجُلُ إِذَا قَالَ لِامْرَأَتِهِ فِي الْجَاهِلِيَّةِ: أَنْتِ عَلَيَّ كَظَهْرِ أُمِّي حُرِّمَتْ عَلَيْهِ فِي الْإِسْلَامِ قَالَ: وَكَانَ أَوَّلُ مَنْ ظَاهَرَ فِي الْإِسْلَامِ أَوْسٌ، وَكَانَتْ تَحْتَهُ ابْنَةُ عَمٍّ لَهُ يُقَالُ لَهَا خُوَيْلَةُ بِنْتُ خُوَيْلِدٍ فَظَاهَرَ مِنْهَا فَأُسْقِطَ فِي يَدِهِ، وَقَالَ مَا أَرَاكِ إِلَّا قَدْ حُرِّمْتِ عَلَيَّ، قَالَتْ لَهُ مِثْلَ ذَلِكَ قَالَ: قَالَ فَانْطَلِقِي إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَلِيهِ فَأَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَوَجَدَتْ عِنْدَهُ مَاشِطَةً تَمْشُطُ رَأْسَهُ فَأَخْبَرَتْهُ، فَقَالَ: " يَا خُوَيْلَةُ مَا أُمْرِنَا فِي أَمْرِكِ بِشَيْءٍ "، فَأُنْزِلَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: " يَا خُوَيْلَةُ أَبْشِرِي " قَالَتْ: خَيْرًا قَالَ: " خَيْرًا " فَقَرَأَ عَلَيْهَا قَوْلَهُ تَعَالَى: {قَدْ سَمِعَ اللهُ قَوْلَ الَّتِي تُجَادِلُكَ فِي زَوْجِهَا وَتَشْتَكِي إِلَى اللهِ} [المجادلة: ١] الْآيَاتِ.
حافظ ثناء اللہ

عکرمہ رحمہ اللہ، سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ جب دورِ جاہلیت میں مرد اپنی بیوی سے کہہ دیتا کہ تو میرے اوپر ایسی ہی ہے جیسی میری والدہ، تو اسلام میں یہ عورت مرد پر حرام ہو جاتی تھی۔ راوی کہتے ہیں کہ اسلام میں سب سے پہلا ظہار اوس رضی اللہ عنہ نے کیا، ان کے نکاح میں چچا کی بیٹی خویلہ بنت خویلد رضی اللہ عنہا تھیں۔ اوس رضی اللہ عنہ نے ظہار کیا تو ان کے ہاتھ سے چیز بھی گر گئی اور انہوں نے کہا: میرے خیال میں تو میرے اوپر حرام ہو گئی ہے، تو خولہ رضی اللہ عنہا نے بھی ایسی ہی بات کہی۔ راوی کہتے ہیں کہ اوس رضی اللہ عنہ نے کہا: نبی ﷺ کے پاس جا کر سوال کرو، وہ نبی ﷺ کے پاس آئیں تو آپ ﷺ کو کوئی زوجہ مطہرہ کنگھی کر رہی تھیں۔ انہوں نے آپ ﷺ کو بتایا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے خولہ! آپ کے معاملے میں ہمیں کوئی حکم نہیں دیا گیا۔“ پھر نبی ﷺ پر وحی نازل ہوئی تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے خولہ! خوش ہو جا۔“ وہ کہتی ہیں: بھلائی یا بہتر! آپ ﷺ نے فرمایا: ”خیر“ اور پھر آپ ﷺ نے ان پر یہ آیت تلاوت فرمائی: ﴿قَدْ سَمِعَ اللَّهُ قَوْلَ الَّتِي تُجَادِلُكَ فِي زَوْجِهَا وَتَشْتَكِي إِلَى اللَّهِ﴾ [سورة المجادلة: 1]۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الظهار / حدیث: 15245
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»