حدیث نمبر: 15243
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، نا الشَّيْخُ أَبُو مُحَمَّدٍ أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْمُزَنِيُّ، نا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، نا أَبُو كُرَيْبٍ، نا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ مَعْنٍ الْمَسْعُودِيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ تَمِيمِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ عُرْوَةَ قَالَ: قَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا: " تَبَارَكَ اللهُ الَّذِي وَسِعَ سَمْعُهُ كُلَّ شَيْءٍ إِنِّي لَأَسْمَعُ كَلَامَ خَوْلَةَ بِنْتِ ثَعْلَبَةَ وَيَخْفَى عَلَيَّ بَعْضُهُ وَهِيَ تَشْتَكِي إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَوْجَهَا وَهِيَ تَقُولُ: يَا رَسُولَ اللهِ أَكَلَ شَبَابِي وَنَثَرْتُ لَهُ بَطْنِي حَتَّى إِذَا كَبِرَتْ سِنِّي وَانْقَطَعَ لَهُ وَلَدِي ظَاهَرَ مِنِّي، اللهُمَّ إِنِّي أَشْكُو إِلَيْكَ "، قَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا: " فَمَا بَرِحَتْ حَتَّى نَزَلَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ بِهَؤُلَاءِ الْآيَاتِ {قَدْ سَمِعَ اللهُ قَوْلَ الَّتِي تُجَادِلُكَ فِي زَوْجِهَا} [المجادلة: ١] قَالَ: وَزَوْجُهَا أَوْسُ بْنُ الصَّامِتِ.
حافظ ثناء اللہ

عروہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: ”اللہ رب العزت برکت دے اس ذات کو جس کی سماعت نے ہر چیز کو گھیر رکھا ہے۔ میں خولہ بنت ثعلبہ کے کلام کو سن رہی تھی اور ان کی کچھ باتیں مجھ پر پوشیدہ تھیں، یہ رسول اللہ ﷺ کے سامنے اپنے خاوند کی شکایت کر رہی تھیں کہ اے اللہ کے رسول ﷺ! اس نے میری جوانی کو ختم کر دیا اور میں نے اس کی اولاد کو جنم دیا، جب میں بوڑھی ہو گئی اور اولاد کا سلسلہ ختم ہو گیا تو اس نے مجھ سے ظہار کر لیا۔ اے اللہ! میں تجھ سے شکایت کرتی ہوں“، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ وہ اسی حالت میں تھیں کہ جبرائیل امین یہ آیت لے کر آگئے: ﴿قَدْ سَمِعَ اللَّهُ قَوْلَ الَّتِي تُجَادِلُكَ فِي زَوْجِهَا﴾ [سورة المجادلة: 1] ”اللہ نے اس عورت کی بات کو سن لیا جو اپنے شوہر کے بارے میں جھگڑا کر رہی تھی“۔ عروہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اس کا خاوند اوس بن صامت رضی اللہ عنہ تھا۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الظهار / حدیث: 15243
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»