السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الرجعة— طلاق سے رجوع کرنے کا بیان
باب: نكاح المطلقة ثلاثا باب: تین طلاقیں پانے والی عورت کے (دوسرے) نکاح کا بیان۔
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، أنا أَبُو الْحَسَنِ الطَّرَائِفِيُّ، نا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ، نا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا فِي قَوْلِهِ تَعَالَى: {فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ} [البقرة: ٢٣٠] يَقُولُ: " إِنْ طَلَّقَهَا ثَلَاثًا فَلَا تَحِلُّ لَهُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ "، ثُمَّ قَالَ: {فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا أَنْ يَتَرَاجَعَا} [البقرة: ٢٣٠] يَقُولُ: " إِذَا تَزَوَّجَتْ بَعْدَ الْأَوَّلِ فَدَخَلَ بِهَا الْآخَرُ فَلَا حَرَجَ عَلَى الْأَوَّلِ أَنْ يَتَزَوَّجَهَا إِذَا طَلَّقَهَا الْآخَرُ أَوْ مَاتَ عَنْهَا " وَرُوِّينَا عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ فِي مَوْتِ الثَّانِي عَنْهَا قَبْلَ أَنْ يَمَسَّهَا لَا يَحِلُّ لِزَوْجِهَا الْأَوَّلِ أَنْ يَتَزَوَّجَهَا.علی بن ابی طلحہ رحمہ اللہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے اللہ تعالیٰ کے اس قول ﴿فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ﴾ [سورة البقرة: 230] ”اگر خاوند نے بیوی کو تیسری طلاق بھی دے دی تو یہ بیوی خاوند کے لیے حلال نہیں ہے، یہاں تک کہ کسی دوسرے خاوند سے نکاح کر لے۔“ کے متعلق روایت کرتے ہیں، انہوں نے فرمایا: ﴿فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا أَنْ يَتَرَاجَعَا﴾ [سورة البقرة: 230] جب پہلے کے بعد دوسرے سے شادی کر لی اور اس نے دخول بھی کر لیا، تب پہلے پر کوئی گناہ نہیں ہے کہ وہ اس سے نکاح کرے جب دوسرا طلاق دے دے یا فوت ہو جائے۔
(ب) قاسم بن محمد رحمہ اللہ دوسرے کی موت کے بارے میں فرماتے ہیں: ”اگر وہ دخول سے پہلے فوت ہو جائے تو پھر پہلے کے لیے اس عورت سے نکاح کرنا حلال نہیں ہے۔“