حدیث نمبر: 15194
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقَطِيعِيُّ، نا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، نا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: طَلَّقَ رَجُلٌ امْرَأَتَهُ فَتَزَوَّجَتْ زَوْجًا غَيْرَهُ وَدَخَلَ بِهَا وَمَعَهُ مِثْلُ الْهُدْبَةِ فَلَمْ يَصِلْ مِنْهَا إِلَى شَيْءٍ تُرِيدُهُ، فَلَمْ يَلْبَثْ أَنْ طَلَّقَهَا فَأَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَتْهُ عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ ⦗٦١٤⦘ إِنَّ زَوْجِي طَلَّقَنِي وَإِنِّي تَزَوَّجْتُ زَوْجًا غَيْرَهُ فَدَخَلَ بِي وَلَمْ يَكُنْ مَعَهُ إِلَّا مِثْلُ الْهُدْبَةِ فَلَمْ يَقَرَبْنِي إِلَّا هَنَةً وَاحِدَةً لَمْ يَصِلْ مِنِّي إِلَى شَيْءٍ، أَفَأَحِلُّ لِزَوْجِيَ الْأَوَّلِ؟ فَقَالَ: " لَا تَحِلِّينَ لِزَوْجِكِ الْأَوَّلِ حَتَّى يَذُوقَ الْآخَرُ عُسَيْلَتَكِ وَتَذُوقِينَ عُسَيْلَتَهُ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ أَبِي كُرَيْبٍ عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ.
حافظ ثناء اللہ

ہشام اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: ایک شخص نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی، اس نے کسی دوسرے خاوند سے شادی کر لی، اس نے دخول کیا تو اس کے پاس کپڑے کے جھالر کی طرح (کچھ) تھا، اس نے عورت کی خواہش کو پورا نہ کیا تو اس نے طلاق دینے میں دیر نہ کی۔ وہ نبی ﷺ کے پاس آئی اور اس کے بارے میں سوال کیا، کہنے لگی: ”اے اللہ کے رسول ﷺ! میرے خاوند نے مجھے طلاق دے دی، میں نے دوسرے خاوند سے نکاح کیا۔ جب اس نے دخول کیا تو اس کے پاس کپڑے کے جھالر کی مانند ہے، وہ صرف ایک ہی مرتبہ میرے قریب آ سکا اور اس نے میری حاجت کو پورا نہ کیا، کیا میں پہلے خاوند کے لیے حلال ہوں؟“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو پہلے خاوند کے لیے حلال نہیں یہاں تک کہ دوسرا تیرے مزے کو چکھے اور تو اس کے مزے کو چکھے۔“

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الرجعة / حدیث: 15194
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ متفق عليه»