حدیث نمبر: 15191
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ، وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ قَالُوا: نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ أنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ: حَدَّثَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَتْهُ أَنَّ رِفَاعَةَ الْقُرَظِيَّ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ فَبَتَّ طَلَاقَهَا فَتَزَوَّجَتْ بَعْدَهُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الزُّبَيْرِ فَجَاءَتْ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ إِنَّهَا كَانَتْ تَحْتَ رِفَاعَةَ فَطَلَّقَهَا آخَرُ ثَلَاثَ تَطْلِيقَاتٍ، فَتَزَوَّجَتْ بَعْدَهُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الزُّبَيْرِ وَأَنَّهُ وَاللهِ مَا مَعَهُ إِلَّا مِثْلُ هَذِهِ الْهُدْبَةِ، وَأَخَذَتْ بِهُدْبَةٍ مِنْ جِلْبَابِهَا قَالَ: فَتَبَسَّمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَاحِكًا وَقَالَ: " لَعَلَّكِ تُرِيدِينَ أَنْ تَرْجِعِي إِلَى رِفَاعَةَ لَا حَتَّى تَذُوقِي عُسَيْلَتَهُ وَيَذُوقَ عُسَيْلَتَكِ "، قَالَتْ: وَأَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ جَالِسٌ عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَخَالِدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ جَالِسٌ بِبَابِ الْحُجْرَةِ لَمْ يُؤْذَنْ لَهُ فَطَفِقَ خَالِدٌ يُنَادِي أَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَلَا تَزْجُرُ هَذِهِ عَمَّا تَجْهَرُ بِهِ عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَبِي الطَّاهِرِ، وَحَرْمَلَةُ عَنِ ابْنِ وَهْبٍ.
حافظ ثناء اللہ

سیدنا عروہ بن زبیر رحمہ اللہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل فرماتے ہیں کہ رفاعہ قرظی نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دیں، تو اس عورت نے بعد میں سیدنا عبدالرحمن بن زبیر رضی اللہ عنہ سے شادی کر لی، پھر وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آ کر کہنے لگی کہ وہ رفاعہ کے نکاح میں تھی، اس نے تین طلاقیں دے دی ہیں، اس کے بعد اس نے عبدالرحمن بن زبیر رضی اللہ عنہ سے شادی کی، اس کے پاس کپڑے کی جھالر ہے اور اس نے اپنی چادر کی جھالر کو پکڑا۔ راوی کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ہنس پڑے اور فرمایا: ”شاید کہ تو رفاعہ کے پاس واپس جانا چاہتی ہے، یہ ممکن نہیں جب تک تو اس سے جماع نہ کرے اور وہ تجھ سے لطف اندوز نہ ہو لے۔“ وہ کہتی ہیں کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نبی ﷺ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے اور سیدنا خالد بن سعید بن عاص رضی اللہ عنہ حجرہ کے دروازہ پر بیٹھے تھے، ان کو اجازت نہ ملی تھی، تو سیدنا خالد رضی اللہ عنہ نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو آواز دی کہ آپ اس عورت کو ڈانٹتے نہیں ہیں، یہ نبی ﷺ کے پاس کس چیز کا اظہار کر رہی ہے؟

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الرجعة / حدیث: 15191
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ تقدم قبله»