السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الخلع والطلاق— خلع اور طلاق کا بیان
باب: ما يهدم الزوج من الطلاق وما لا يهدم باب: اس بیان میں کہ دوسرا شوہر (نکاحِ ثانی) سابقہ طلاقوں میں سے کن کو ختم کر دیتا ہے اور کن کو ختم نہیں کرتا۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الصَّفَّارُ نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ حَرْبٍ، نا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: " لَمْ يَكْذِبْ إِبْرَاهِيمُ عَلَيْهِ السَّلَامُ إِلَّا ثَلَاثَ كَذِبَاتٍ " فَذَكَرَ الْحَدِيثَ مَوْقُوفًا إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: وَبَيْنَمَا هُوَ فِي أَرْضِ جَبَّارٍ مِنَ الْجَبَابِرَةِ وَمَعَهُ سَارَةُ إِذْ قِيلَ لِذَلِكَ الْمَلِكِ: إِنَّ هَاهُنَا رَجُلًا مَعَهُ امْرَأَةٌ مِنْ أَحْسَنِ النَّاسِ، فَأَرْسَلَ إِلَى إِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ السَّلَامُ فَأَتَاهُ فَقَالَ: مَا هَذِهِ الْمَرْأَةُ؟ قَالَ: أُخْتِي، قَالَ: اذْهَبْ فَأَرْسِلْ بِهَا إِلِيَّ، فَأَتَاهَا فَقَالَ: إِنَّهُ قَدْ سَأَلَنِي عَنْكِ فَأَخْبَرْتُهُ أَنَّكِ أُخْتِي، فَلَا تُكَذِّبِينِي عِنْدَهُ، فَإِنَّهُ لَيْسَ فِي الْأَرْضِ مُسْلِمٌ غَيْرِي وَغَيْرُكِ، فَأَنْتِ أُخْتِي فِي الْإِسْلَامِ، قَالَ: فَانْطَلَقَتْ " وَذَكَرَ الْحَدِيثَ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ حَرْبٍ، وَرَوَاهُ هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ عَنْ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَعْنَاهُ.محمد حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ ”ابراہیم علیہ السلام نے صرف تین جھوٹ بولے۔“ انھوں نے موقوف حدیث ذکر کی کہ جب وہ ظالموں میں سے کسی ظالم کی سرزمین میں تھے اور ان کے ساتھ سارہ رضی اللہ عنہا بھی تھیں۔ جب اس بادشاہ سے کہا گیا کہ یہاں ایک شخص ہے اس کے ساتھ تمام لوگوں سے زیادہ خوبصورت عورت ہے تو اس نے ابراہیم علیہ السلام کو بلوایا اور پوچھا: ”یہ عورت کون ہے؟“ فرمانے لگے: ”یہ میری بہن ہے۔“ اس نے کہا: ”جاؤ اس کو میرے پاس بھیج دو۔“ سارہ رضی اللہ عنہا اس کے پاس آئیں۔ ابراہیم (علیہ السلام) نے فرمایا: ”اگر وہ تجھ سے سوال کرے تو بتا دینا تو میری بہن ہے، اس کے پاس میری تکذیب نہ کرنا؛ کیونکہ روئے زمین پر میرے اور تیرے علاوہ کوئی مسلمان نہیں تو میری اسلامی بہن ہے۔“ راوی کہتے ہیں: وہ چلی گئیں۔۔۔ اور بقیہ حدیث ذکر کی۔