السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الخلع والطلاق— خلع اور طلاق کا بیان
باب: من قال: لا يجوز طلاق السكران ولا عتقه باب: اس شخص کا قول جس نے کہا کہ نشے میں دھت شخص کی طلاق اور اس کا آزاد کرنا نافذ (جائز) نہیں ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ أنا أَبُو سَهْلِ بْنُ زِيَادٍ الْقَطَّانُ، نا عَبْدُ اللهِ بْنُ رَوْحٍ الْمَدَائِنِيُّ، نا شَبَابَةُ، نا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ: أُتِيَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بِرَجُلٍ سَكْرَانَ فَقَالَ: إِنِّي طَلَّقْتُ امْرَأَتِي وَأَنَا سَكْرَانُ فَكَانَ رَأْيُ عُمَرَ مَعَنَا " أَنْ يَجْلِدَهُ وَأَنْ يُفَرِّقَ بَيْنَهُمَا "، فَحَدَّثَهُ أَبَانُ بْنُ عُثْمَانَ أَنَّ عُثْمَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: " لَيْسَ لِلْمَجْنُونِ وَلَا لِلسَّكْرَانِ طَلَاقٌ "، فَقَالَ عُمَرُ: كَيْفَ تَأْمُرُونِي، وَهَذَا يُحَدِّثُنِي عَنْ عُثْمَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَجَلَدَهُ وَرَدَّ إِلَيْهِ امْرَأَتَهُ قَالَ الزُّهْرِيُّ: فَذُكِرَ ذَلِكَ لِرَجَاءِ بْنِ حَيْوَةَ فَقَالَ: قَرَأَ عَلَيْنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مَرْوَانَ كِتَابَ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ فِيهِ السُّنَنُ أَنَّ كُلَّ أَحَدٍ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ جَائِزٌ إِلَّا الْمَجْنُونَ قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: وَرُوِّينَا عَنْ طَاوُسٍ أَنَّهُ قَالَ: كَيْفَ يَجُوزُ طَلَاقُهُ وَلَا تُقْبَلُ لَهُ صَلَاةٌ؟ وَعَنْ عَطَاءٍ فِي طَلَاقِ السَّكْرَانِ قَالَ: لَيْسَ بِشَيْءٍ وَعَنْ أَبَانَ بْنِ عُثْمَانَ مِثْلَهُ، وَقَدْ مَضَى فِي كِتَابِ الْإِقْرَارِ حَدِيثُ سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ عَنْ أَبِيهِ فِي قِصَّةِ مَاعِزِ بْنِ مَالِكٍ ⦗٥٩٠⦘ حَيْثُ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مِمَّ أُطَهِّرُكَ؟ " فَقَالَ: مِنَ الزِّنَا قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَيَّةَ جُنُونٍ " فَأُخْبِرَ أَنَّهُ لَيْسَ بِمَجْنُونٍ فَقَالَ: " أَشَرِبْتَ خَمْرًا؟ " فَقَامَ رَجُلٌ فَاسْتَنْكَهَهُ فَلَمْ يَجِدْ مِنْهُ رِيحَ خَمْرٍ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَثَيِّبٌ أَنْتَ؟ " قَالَ: نَعَمْ فَأَمَرَ بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرُجِمَ، فَبَيِّنٌ فِي هَذَا أَنَّهُ قَصَدَ إِسْقَاطَ إِقْرَارِهِ بِالسُّكْرِ كَمَا قَصَدَ إِسْقَاطَ إِقْرَارِهِ بِالْجُنُونِ، فَدَلَّ أَنْ لَا حُكْمَ لِقَوْلِهِ وَمَنْ قَالَ بِالْأَوَّلِ أَجَابَ عَنْهُ بِأَنَّ ذَلِكَ كَانَ فِي حُدُودِ اللهِ تَعَالَى الَّتِي تُدْرَأُ بِالشُّبُهَاتِ، وَاللهُ أَعْلَمُ.امام زہری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ کے پاس ایک نشہ آور شخص لایا گیا، اس نے کہا: میں نے اپنی بیوی کو نشے کی حالت میں طلاق دی ہے۔ عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ کی رائے ہمارے ساتھ یہی تھی کہ اسے کوڑے لگائے جائیں اور دونوں کے درمیان تفریق کر دی جائے۔ تو ابان بن عثمان رحمہ اللہ نے انہیں بیان کیا کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: پاگل اور نشئی کی طلاق نہیں ہوتی۔ عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ فرمانے لگے: آپ مجھے کیسے حکم دیتے ہیں جب کہ یہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے نقل فرما رہے ہیں؟ چنانچہ انہوں نے اس کو کوڑے لگائے اور اس کی بیوی اسے واپس کر دی۔
امام زہری رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ رجاء بن حیوہ رحمہ اللہ کے سامنے تذکرہ کیا گیا تو اس نے کہا: عبدالملک بن مروان رحمہ اللہ نے سیدنا معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما کا خط ہمارے سامنے پڑھا جس میں تھا کہ جس نے اپنی بیوی کو طلاق دی وہ جائز ہے سوائے پاگل کے۔
شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ طاؤس رحمہ اللہ سے منقول ہے کہ اس کی طلاق کیسے جائز ہے جب کہ اس کی نماز کو قبول نہیں کیا جاتا۔
عطاء رحمہ اللہ نشہ کرنے والے کی طلاق کو شمار نہیں کرتے تھے۔
سلیمان بن بریدہ رحمہ اللہ اپنے والد رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ ماعز بن مالک رضی اللہ عنہ کا قصہ ہے کہ جب نبی ﷺ نے فرمایا: ”کس چیز سے میں تجھے پاک کروں؟“ اس نے کہا: زنا سے۔ نبی ﷺ نے پوچھا: ”کیا وہ پاگل تو نہیں؟“ تو آپ ﷺ کو بتایا گیا: وہ پاگل نہیں۔ آپ ﷺ نے پوچھا: ”کیا تو نے شراب تو نہیں پی؟“ ایک شخص نے کھڑے ہو کر اس کے منہ کو سونگھا تو شراب کی بو کو نہ پایا۔ نبی ﷺ نے پوچھا: ”کیا تو شادی شدہ ہے؟“ اس نے کہا: ہاں۔ تو نبی ﷺ نے اسے رجم کرنے کا حکم فرمایا۔
اس حدیث سے واضح ہوتا ہے کہ آپ ﷺ نے نشے کی بنا پر بھی اس کا اقرار ساقط کرنا چاہا جیسے پاگل پن کی بنا پر ساقط کرنا چاہا، تو معلوم ہوا کہ (نشئی کی) بات کا کوئی حکم نہیں۔ اور جو پہلے قول کا قائل ہے (کہ نشئی کی طلاق ہو جاتی ہے) وہ اس کا یہ جواب دیتا ہے کہ یہ معاملہ اللہ کی حدود کا تھا جو شبہات کی وجہ سے ساقط کر دی جاتی ہیں۔ واللہ اعلم۔