حدیث نمبر: 15112
وَأَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، نا أَبُو بَكْرِ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي، نا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبُوشَنْجِيُّ، نا ابْنُ بُكَيْرٍ، نا مَالِكٌ، أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ، وَسُلَيْمَانَ بْنَ يَسَارٍ سُئِلَا عَنْ طَلَاقِ السَّكْرَانِ، فَقَالَا: " إِذَا طَلَّقَ السَّكْرَانُ جَازَ طَلَاقُهُ وَإِنْ قَتَلَ قُتِلَ "، قَالَ مَالِكٌ: وَذَلِكَ الْأَمْرُ عِنْدَنَا وَرُوِّينَا عَنْ إِبْرَاهِيمَ أَنَّهُ قَالَ: " طَلَاقُ السَّكْرَانِ وَعِتْقُهُ جَائِزٌ "، وَعَنِ الْحَسَنِ الْبَصْرِيِّ قَالَ: " السَّكْرَانُ يَجُوزُ طَلَاقُهُ وَعِتْقُهُ وَلَا يَجُوزُ شِرَاءُهُ وَبَيْعُهُ ".
حافظ ثناء اللہ

امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سعید بن مسیب اور سلیمان بن یسار رحمہما اللہ دونوں سے نشہ کرنے والے کی طلاق کے بارے میں سوال کیا گیا تو فرماتے ہیں: جب نشہ کرنے والا شخص طلاق دے تو اس کی طلاق جائز ہے، اگر وہ قتل کرتا ہے تو اسے قتل کیا جاتا ہے۔ امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہی ہمارا فتویٰ ہے۔
ابراہیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نشہ کرنے والے شخص کا طلاق دینا اور غلام آزاد کردینا جائز ہے۔
حضرت حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نشہ کرنے والے شخص کی طلاق اور غلام آزاد کردینا جائز ہے لیکن اس کی خرید و فروخت جائز نہیں ہے۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الخلع والطلاق / حدیث: 15112
درجۂ حدیث محدثین: حسن
تخریج حدیث «حسن۔ عن ابن المسيب فقط»