السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الخلع والطلاق— خلع اور طلاق کا بیان
باب: ما جاء في طلاق المكره باب: مکروہ (طلاق پر مجبور کیے گئے شخص) کی طلاق کے متعلق وارد ہونے والی روایات کا بیان۔
قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ قَالَ اللهُ جَلَّ ثَنَاؤُهُ: {إِلَّا مَنْ أُكْرِهَ وَقَلْبُهُ مُطْمَئِنٌّ بِالْإِيمَانِ} [النحل: 106] وَلِلْكُفْرِ أَحْكَامٌ، فَلَمَّا وَضَعَ اللهُ عَنْهُ سَقَطَتْ أَحْكَامُ الْإِكْرَاهِ عَنِ الْقَوْلِ كُلِّهِ؛ لِأَنَّ الْأَعْظَمَ إِذَا سَقَطَ عَنِ النَّاسِ سَقَطَ مَا هُوَ أَصْغَرُ مِنْهُ.امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اللہ جل ثناؤہ کا فرمان ہے: ﴿إِلَّا مَنْ أُكْرِهَ وَقَلْبُهُ مُطْمَئِنٌّ بِالْإِيمَانِ﴾ ”سوائے اس کے جسے مجبور کیا جائے اور اس کا دل ایمان پر مطمئن ہو۔“ [سورة النحل: 106]
اور کفر کے (بہت سے) احکام ہیں، تو جب اللہ تعالیٰ نے (مجبور کیے گئے شخص سے) اسے ساقط کر دیا تو جبر کی حالت میں (کہی گئی) ہر بات کے احکام ساقط ہو گئے، کیونکہ جب سب سے بڑی چیز لوگوں سے ساقط ہو جائے تو جو اس سے چھوٹی ہے وہ بھی ساقط ہو جاتی ہے۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو ذَرِّ بْنُ أَبِي الْحُسَيْنِ بْنِ أَبِي الْقَاسِمِ الْمُذَكِّرُ، وَأَبُو عَبْدِ اللهِ إِسْحَاقُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ السُّوسِيُّ فِي آخَرِينَ قَالُوا: نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ نا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، نا بِشْرُ بْنُ بَكْرٍ، نا الْأَوْزَاعِيُّ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ اللهَ تَجَاوَزَ لِي عَنْ أُمَّتِي الْخَطَأَ وَالنِّسْيَانَ، وَمَا اسْتُكْرِهُوا عَلَيْهِ " جَوَّدَ إِسْنَادَهُ بِشْرُ بْنُ بَكْرٍ وَهُوَ مِنَ الثِّقَاتِ، وَرَوَاهُ الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ فَلَمْ يَذْكُرْ فِي إِسْنَادِهِ عُبَيْدَ بْنَ عُمَيْرٍ.سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ رب العزت نے میری امت کو غلطی، بھول اور جس پر ان کو مجبور کیا جائے معاف کر دیا ہے۔“