السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحيض— حیض کا بیان
باب: الرجل يصيب من الحائض ما دون الجماع باب: آدمی کا حائضہ سے جماع کے علاوہ لطف اندوز ہونے کا بیان
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ ثنا أَبُو دَاوُدَ ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْلَمَةَ ثنا عَبْدُ اللهِ يَعْنِي ابْنَ عُمَرَ بْنِ غَانِمٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ يَعْنِي ابْنَ زِيَادٍ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ غُرَابٍ، أَنَّ عَمَّةً لَهُ حَدَّثَتْهُ أَنَّهَا سَأَلَتْ عَائِشَةَ قَالَتْ: " إِحْدَانَا تَحِيضُ وَلَيْسَ لَهَا وَلِزَوْجِهَا إِلَّا فِرَاشٌ وَاحِدٌ قَالَتْ: " أُخْبِرُكِ بِمَا صَنَعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ فَمَضَى إِلَى مَسْجِدِهِ - قَالَ أَبُو دَاوُدَ: تَعْنِي مَسْجِدَ بَيْتِهِ - فَلَمْ يَنْصَرِفْ حَتَّى غَلَبَتْنِي عَيْنِي وَأَوْجَعَهُ الْبَرْدُ فَقَالَ: " ادْنِي مِنِّي " قَالَتْ: فَقُلْتُ: إِنِّي حَائِضٌ قَالَ: " وَإِنْ، اكْشِفِي عَنْ فَخِذَيْكِ فَكَشَفْتُ عَنْ فَخِذِيَّ فَوَضَعَ خَدَّهُ وَصَدْرَهُ عَلَى فَخِذِيَّ وَحَنَيْتُ عَلَيْهِ حَتَّى دَفِيءَ وَنَامَ ".عمارہ بن غراب کی پھوپھی نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے عرض کیا: جب ہم میں سے کوئی حیض والی ہوتی تھی تو اس کا اور اس کے خاوند کا ایک ہی بستر ہوتا تھا۔ انہوں نے فرمایا: میں تجھے بتاتی ہوں کہ نبی کریم ﷺ کیا کرتے تھے؟ آپ ﷺ داخل ہوئے، پھر مسجد کی طرف چلے گئے۔ امام ابو داؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں، یعنی اپنے گھر کی مسجد میں، آپ ﷺ پھرے نہیں، یہاں تک کہ میری آنکھیں غالب آگئیں (یعنی مجھے نیند آگئی) اور آپ ﷺ کو سردی محسوس ہوئی تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”میرے قریب ہو جاؤ!“ میں نے کہا: میں حائضہ ہوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اپنی رانوں کو ڈھانپ لو۔“ میں نے اپنی رانوں کو ڈھانپ لیا، آپ ﷺ نے اپنا رخسار اور سینہ میری ران پر رکھا اور میں آپ ﷺ پر جھکی، یہاں تک کہ آپ ﷺ نے گرمی حاصل کی اور سو گئے۔