حدیث نمبر: 15027
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنا أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ، نا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ، نا أَبُو عَبَّادٍ، نا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، نا عِيسَى بْنُ عَاصِمٍ، عَنْ زَاذَانَ قَالَ: كُنَّا عِنْدَ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَذَكَرَ الْخِيَارَ فَقَالَ: إِنَّ أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ قَدْ سَأَلَنِي عَنِ الْخِيَارِ فَقُلْتُ: " إِنِ اخْتَارَتْ نَفْسَهَا فَوَاحِدَةٌ بَائِنَةٌ وَإِنِ اخْتَارَتْ زَوْجَهَا فَوَاحِدَةٌ وَهُوَ أَحَقُّ بِهَا " فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " لَيْسَ كَذَلِكَ وَلَكِنَّهَا اخْتَارَتْ زَوْجَهَا فَلَيْسَ بِشَيْءٍ، وَإِنِ اخْتَارَتْ نَفْسَهَا فَوَاحِدَةٌ وَهُوَ أَحَقُّ بِهَا فَلَمْ أَسْتَطِعْ إِلَّا مُتَابَعَةَ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ "، فَلَمَّا خَلَصَ الْأَمْرُ إِلِيَّ وَعَلِمْتُ أَنِّي مَسْئُولٌ عَنِ الْفُرُوجِ أَخَذْتُ بِالَّذِي كُنْتُ أَرَى فَقَالُوا: وَاللهِ لَئِنْ جَامَعْتَ عَلَيْهِ أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ عُمَرَ وَتَرَكْتَ رَأْيَكَ الَّذِي رَأَيْتَ إِنَّهُ لَأَحَبُّ إِلَيْنَا مِنْ أَمْرٍ تَفَرَّدْتَ بِهِ بَعْدَهُ، قَالَ: فَضَحِكَ، ثُمَّ قَالَ: أَمَا إِنَّهُ قَدْ أَرْسَلَ إِلَى زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ فَسَأَلَ زَيْدًا فَخَالَفَنِي وَإِيَّاهُ، فَقَالَ زَيْدٌ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " إِنِ اخْتَارَتْ نَفْسَهَا فَثَلَاثٌ، وَإِنِ اخْتَارَتْ زَوْجَهَا فَوَاحِدَةٌ وَهُوَ أَحَقُّ بِهَا ".
حافظ ثناء اللہ

عیسیٰ بن عاصم، زاذان سے روایت کرتے ہیں کہ ہم سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس تھے، انہوں نے اختیار (بیوی کو طلاق کا فیصلہ سونپنے) کا ذکر کیا، پھر کہا کہ امیر المومنین نے مجھ سے اختیار کے بارے میں سوال کیا، میں نے کہا: اگر عورت نے اپنے آپ کو اختیار کر لیا تو ایک طلاق کی وجہ سے جدا ہو جائے گی۔ اگر اس نے اپنے خاوند کو اختیار کیا تو ایک طلاق ہے، لیکن خاوند عورت کا زیادہ حق رکھتا ہے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: اس طرح نہیں بلکہ اگر عورت نے خاوند کو اختیار کر لیا تو اس کے ذمے کچھ نہیں۔ اگر عورت نے اپنے آپ کو اختیار کیا تو ایک طلاق ہے اور مرد عورت کا زیادہ حق رکھتا ہے اور مجھے سیدنا امیر المومنین عمر رضی اللہ عنہ کی موافقت کے سوا کوئی چارہ نہ تھا۔ جب معاملہ خالص مجھ تک محدود ہوا اور میں نے جانا کہ سوال خروج کے متعلق کیا گیا ہے تو پھر میں نے اپنی رائے کو اختیار کیا۔ انہوں نے کہا: اللہ کی قسم! اگر آپ امیر المومنین سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی رائے کی موافقت کرتے اور اپنی رائے کو چھوڑ دیتے تو یہ ہمیں اس سے زیادہ پسند تھا جس میں آپ منفرد ہوئے۔ راوی کہتے ہیں: وہ ہنس پڑے، پھر انہوں نے سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کی جانب کسی کو بھیجا تو اس نے سیدنا زید رضی اللہ عنہ سے سوال کیا۔ اس نے میری بھی اور ان کی بھی مخالفت کر دی۔ سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کہنے لگے: اگر بیوی اپنے آپ کو اختیار کر لے تو اس کو تین طلاقیں ہیں، اور اگر بیوی نے خاوند کو اختیار کر لیا تو اس کو ایک طلاق ہے اور مرد بیوی کا زیادہ حق دار ہے۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الخلع والطلاق / حدیث: 15027
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»