السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الخلع والطلاق— خلع اور طلاق کا بیان
باب: ما جاء في التخيير باب: تخییر (عورت کو طلاق کا اختیار دینے) کے متعلق وارد ہونے والی روایات کا بیان۔
حدیث نمبر: 15025
أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَبُو بَكْرٍ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنا أَبُو نَصْرٍ أَحْمَدُ بْنُ عَمْرٍو نا سُفْيَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْجَوْهَرِيُّ، نا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ، نا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْوَلِيدِ، نا سُفْيَانُ، عَنْ حَمَّادٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، أَنَّ عُمَرَ، وَابْنَ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا كَانَا يَقُولَانِ: " إِذَا خَيَّرَهَا فَاخْتَارَتْ نَفْسَهَا فَهِيَ وَاحِدَةٌ وَهُوَ أَحَقُّ بِهَا وَإِنِ اخْتَارَتْ زَوْجَهَا فَلَا شَيْءَ ".حافظ ثناء اللہ
ابراہیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر اور سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہما دونوں فرماتے ہیں کہ جب خاوند بیوی کو اختیار دے اور بیوی نے اپنے آپ کو اختیار کر لیا تو یہ ایک طلاق ہے اور آدمی بیوی کا زیادہ حق دار ہے، اگر بیوی نے خاوند کو اختیار کر لیا تو اس کے ذمہ کچھ بھی نہیں ہے۔