السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الخلع والطلاق— خلع اور طلاق کا بیان
باب: من جعل الثلاث واحدة وما ورد في خلاف ذلك باب: اس شخص کے قول کا بیان جس نے تین طلاقوں کو ایک قرار دیا اور اس کے خلاف وارد ہونے والی روایات کا بیان۔
حدیث نمبر: 14976
وَمِنْهَا مَا أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ أنا الرَّبِيعُ، أنا الشَّافِعِيُّ، أنا مُسْلِمٌ، وَعَبْدُ الْمَجِيدِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي عِكْرِمَةُ بْنُ ⦗٥٥٢⦘ خَالِدٍ، أَنَّ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ أَخْبَرَهُ، أَنَّ رَجُلًا جَاءَ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ فَقَالَ: طَلَّقْتُ امْرَأَتِي أَلْفًا فَقَالَ: " تَأْخُذُ ثَلَاثًا وَتَدَعُ تِسْعَمِائَةٍ وَسَبْعَةً وَتِسْعِينَ " وَرَوَاهُ عَمْرُو بْنُ مُرَّةَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ قَالَ لِرَجُلٍ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ ثَلَاثًا: " حُرِّمَتْ عَلَيْكَ ".حافظ ثناء اللہ
سعید بن جبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس آیا، اس نے کہا کہ میں نے اپنی عورت کو ہزار طلاقیں دی ہیں۔ انہوں نے فرمایا: تین کو لے لو اور ۹۹۷ کو چھوڑ دو۔
(ب) سعید بن جبیر رحمہ اللہ، ابن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ انہوں نے اس شخص سے کہا جس نے اپنی عورت کو تین طلاقیں دی تھیں کہ وہ تیرے اوپر حرام ہو چکی ہے۔