السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الخلع والطلاق— خلع اور طلاق کا بیان
باب: من جعل الثلاث واحدة وما ورد في خلاف ذلك باب: اس شخص کے قول کا بیان جس نے تین طلاقوں کو ایک قرار دیا اور اس کے خلاف وارد ہونے والی روایات کا بیان۔
حدیث نمبر: 14975
فَمِنْهَا مَا أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، نا أَبُو دَاوُدَ، نا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ ثَابِتٍ الْمَرْوَزِيُّ، حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ يَزِيدَ النَّحْوِيِّ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ {وَالْمُطَلَّقَاتُ يَتَرَبَّصْنَ بِأَنْفُسِهِنَّ ثَلَاثَةَ قُرُوءٍ} [البقرة: ٢٢٨] إِلَى قَوْلِهِ: {وَبُعُولَتُهُنَّ أَحَقُّ بِرَدِّهِنَّ} [البقرة: ٢٢٨] " الْآيَةَ، وَذَلِكَ أَنَّ الرَّجُلَ كَانَ إِذَا طَلَّقَ امْرَأَتَهُ فَهُوَ أَحَقُّ بِرَجْعَتِهَا وَإِنْ طَلَّقَهَا ثَلَاثًا فَنُسِخَ ذَلِكَ فَقَالَ {الطَّلَاقُ مَرَّتَانِ} [البقرة: ٢٢٩] " الْآيَةَ.حافظ ثناء اللہ
عکرمہ، سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ ﴿وَالْمُطَلَّقَاتُ يَتَرَبَّصْنَ بِأَنفُسِهِنَّ ثَلَاثَةَ قُرُوءٍ﴾ [سورة البقرة: 228] ”مطلقہ عورتیں اپنے آپ کو تین حیض تک روک رکھیں۔“ «إِلَى قَوْلِهِ» ﴿وَبُعُولَتُهُنَّ أَحَقُّ بِرَدِّهِنَّ﴾ [سورة البقرة: 228] ”اور ان کے خاوند ان کو واپس کرنے کے زیادہ حق دار ہیں۔“ فرماتے ہیں کہ جب مرد بیوی کو طلاق دے تو رجوع کا بھی حق رکھتا ہے، اگر تین طلاقیں دے دے تو یہ حق بھی ختم۔ فرمایا: ﴿الطَّلَاقُ مَرَّتَانِ﴾ [سورة البقرة: 229]۔