السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الخلع والطلاق— خلع اور طلاق کا بیان
باب: ما جاء في إمضاء الطلاق الثلاث وإن كن مجموعات باب: تین طلاقوں کو نافذ کرنے کے متعلق وارد ہونے والی روایات کا بیان اگرچہ وہ بیک وقت دی گئی ہوں۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، نا ⦗٥٥٠⦘ إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْوَاسِطِيُّ، نا مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ الرَّازِيُّ، نا سَلَمَةُ بْنُ الْفَضْلِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي قَيْسٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ الْأَعْلَى، عَنْ سُوَيْدِ بْنِ غَفَلَةَ قَالَ: كَانَتْ عَائِشَةُ الْخَثْعَمِيَّةُ عِنْدَ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَلَمَّا قُتِلَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَتْ: لِتَهْنِئْكَ الْخِلَافَةُ، قَالَ: بِقَتْلِ عَلِيٍّ تُظْهِرِينَ الشَّمَاتَةَ اذْهَبِي فَأَنْتِ طَالِقٌ، يَعْنِي ثَلَاثًا قَالَ: فَتَلَفَّعَتْ بِثِيَابِهَا وَقَعَدَتْ حَتَّى قَضَتْ عِدَّتَهَا فَبَعَثَ إِلَيْهَا بِبَقِيَّةٍ بَقِيَتْ لَهَا مِنْ صَدَاقِهَا وَعَشَرَةِ آلَافٍ صَدَقَةً، فَلَمَّا جَاءَهَا الرَّسُولُ قَالَتْ: مَتَاعٌ قَلِيلٌ مِنْ حَبِيبٍ مَفَارِقٍ، فَلَمَّا بَلَغَهُ قَوْلُهَا بَكَى ثُمَّ قَالَ: لَوْلَا أَنِّي سَمِعْتُ جَدِّي أَوْ حَدَّثَنِي أَبِي أَنَّهُ سَمِعَ جَدِّي يَقُولُ: " أَيُّمَا رَجُلٍ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ ثَلَاثًا عِنْدَ الْأَقْرَاءِ أَوْ ثَلَاثًا مُبْهَمَةً لَمْ تَحِلَّ لَهُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ " لَرَاجَعْتُهَا ". وَكَذَلِكَ رُوِيَ عَنْ عَمْرِو بْنِ شِمْرٍ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ مُسْلِمٍ وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى عَنْ سُوَيْدِ بْنِ غَفَلَةَ.سوید بن غفلہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ عائشہ خثعمیہ رضی اللہ عنہا حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہما کے نکاح میں تھیں۔ جب حضرت علی رضی اللہ عنہ شہید کر دیے گئے تو وہ حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہما سے کہنے لگیں: آپ کو خلافت مبارک ہو۔ تو حضرت حسن رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”حضرت علی رضی اللہ عنہ کے قتل پر خوشی کا اظہار کرتی ہو! جاؤ تجھے تین طلاقیں ہیں۔“ اس نے اپنے کپڑے لپیٹے اور بیٹھ گئی، یہاں تک کہ اس نے اپنی عدت پوری کی تو حضرت حسن رضی اللہ عنہ نے اس کی جانب باقی ماندہ حق مہر بھیجا اور دس ہزار اضافی دیا۔ جب قاصد آیا تو عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: یہ قلیل مال ہے جدا ہونے والے محبوب کے مقابلے میں۔ جب عائشہ رضی اللہ عنہا کی بات حضرت حسن رضی اللہ عنہ کو پہنچی تو وہ رو پڑے، پھر فرمانے لگے: اگر میں نے اپنے نانا سے یا میرے باپ نے مجھے بیان نہ کیا ہوتا کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جس شخص نے اپنی عورت کو حیض کے موقع پر تین طلاقیں دیں یا پوشیدہ انداز سے تین طلاقیں دیں تو یہ عورت اس شخص کے لیے حلال نہیں یہاں تک کہ کسی دوسرے خاوند سے نکاح کر لے“ تو البتہ میں اس سے رجوع کر لیتا۔