حدیث نمبر: 14967
وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، نا أَبُو الْعَبَّاسِ، أنا الرَّبِيعُ، أنا الشَّافِعِيُّ، أنا مَالِكٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْأَشَجِّ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ أَبِي عَيَّاشٍ الْأَنْصَارِيِّ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ يَسْتَفْتِي عَبْدَ اللهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ عَنْ رَجُلٍ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ ثَلَاثًا قَبْلَ أَنْ يَمَسَّهَا فَقَالَ عَطَاءٌ فَقُلْتُ: إِنَّمَا طَلَاقُ الْبِكْرِ وَاحِدَةٌ، فَقَالَ لِي عَبْدُ اللهِ بْنُ عَمْرٍو: " إِنَّمَا أَنْتَ قَاصٌّ الْوَاحِدَةُ تُبِينُهَا وَالثَّلَاثُ تُحَرِّمُهَا حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ ".
حافظ ثناء اللہ

نعمان بن ابی عیاش انصاری، عطاء بن یسار رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ ایک شخص مسئلہ پوچھنے کے لیے سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما کے پاس آیا کہ کسی مرد نے مجامعت سے پہلے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دی ہیں، عطاء رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے کہا کہ کنواری کی طلاق ایک ہوتی ہے، تو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے مجھ سے کہا کہ آپ تو قصہ گو ہیں، ایک طلاق بیوی کو جدا کردیتی ہے اور تین طلاقیں حرام کردیتی ہیں یہاں تک کہ وہ عورت کسی دوسرے مرد سے نکاح کر لے۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الخلع والطلاق / حدیث: 14967
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»