السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الخلع والطلاق— خلع اور طلاق کا بیان
باب: ما جاء في إمضاء الطلاق الثلاث وإن كن مجموعات باب: تین طلاقوں کو نافذ کرنے کے متعلق وارد ہونے والی روایات کا بیان اگرچہ وہ بیک وقت دی گئی ہوں۔
حدیث نمبر: 14965
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، بِبَغْدَادَ أنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دُرُسْتَوَيْهِ، نا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، نا ابْنُ قَعْنَبٍ، وَابْنُ بُكَيْرٍ عَنْ مَالِكٍ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ أنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنا الشَّافِعِيُّ، أنا مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَوْبَانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِيَاسِ بْنِ الْبُكَيْرِ قَالَ: طَلَّقَ رَجُلٌ امْرَأَتَهُ ثَلَاثًا قَبْلَ أَنْ يَدْخُلَ بِهَا ثُمَّ بَدَا لَهُ أَنْ يَنْكِحَهَا فَجَاءَ يَسْتَفْتِي فَذَهَبْتُ مَعَهُ اسْأَلُ لَهُ فَسَأَلَ أَبَا هُرَيْرَةَ وَعَبْدَ اللهِ بْنَ عَبَّاسٍ عَنْ ذَلِكَ فَقَالَا: " لَا نَرَى أَنْ تَنْكِحَهَا ⦗٥٤٩⦘ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَكَ "، قَالَ: إِنَّمَا كَانَ طَلَاقِي إِيَّاهَا وَاحِدَةً، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: " إِنَّكَ أَرْسَلْتَ مِنْ يَدِكَ مَا كَانَ لَكَ مِنْ فَضْلٍ ".حافظ ثناء اللہ
محمد بن ایاس بن بکیر کہتے ہیں کہ ایک شخص نے دخول سے پہلے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دیں۔ پھر بعد میں اسی عورت سے نکاح کا ارادہ بنایا تو فتویٰ پوچھنے کے لیے آیا، محمد بن عبدالرحمن بن سحبان کہتے ہیں کہ میں بھی اس کے ساتھ گیا کہ میں اس کے لیے مسئلہ پوچھوں تو اس نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اور عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے اس بارے میں سوال کیا تو ان دونوں نے فرمایا: ”تو اس عورت سے نکاح نہ کر یہاں تک کہ وہ کسی دوسرے شخص سے نکاح کرلے۔“ اس نے کہا کہ میری جانب سے صرف اس کو ایک طلاق تھی تو ابن عباس رضی اللہ عنہما فرمانے لگے: ”آپ نے اپنے ہاتھ سے جو زائد ہے بھیجی ہے۔“