السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الخلع والطلاق— خلع اور طلاق کا بیان
باب: ما جاء في إمضاء الطلاق الثلاث وإن كن مجموعات باب: تین طلاقوں کو نافذ کرنے کے متعلق وارد ہونے والی روایات کا بیان اگرچہ وہ بیک وقت دی گئی ہوں۔
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أحمد بن عَبْدَانَ، أنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، نا يُوسُفُ الْقَاضِي، نا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، نا يَزِيدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ: سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ سِيرِينَ قَالَ: حَدَّثَنِي عَلْقَمَةُ بْنُ قَيْسٍ قَالَ: أَتَى رَجُلٌ ابْنَ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقَالَ إِنَّ رَجُلًا طَلَّقَ امْرَأَتَهُ الْبَارِحَةَ مِائَةً قَالَ: " قُلْتَهَا مَرَّةً وَاحِدَةً؟ " قَالَ: نَعَمْ قَالَ: " تُرِيدُ أَنْ تَبِينَ مِنْكَ امْرَأَتُكَ؟ " قَالَ: نَعَمْ قَالَ: هُوَ كَمَا قُلْتَ، قَالَ: وَأَتَاهُ رَجُلٌ فقال رجل طَلَّقَ امْرَأَتَهُ الْبَارِحَةَ عَدَدَ النُّجُومِ قَالَ: " قُلْتَهَا مَرَّةً وَاحِدَةً؟ " قَالَ: نَعَمْ قَالَ: تُرِيدُ أَنْ تَبِينَ مِنْكَ امْرَأَتُكَ؟ قَالَ: نَعَمْ قَالَ: هُوَ كَمَا قُلْتَ، قَالَ مُحَمَّدٌ: فَذَكَرَ مِنْ نِسَاءِ أَهْلِ الْأَرْضِ كَلِمَةً لَا أَحْفَظُهَا قَالَ: قَدْ بَيَّنَ اللهُ أَمْرَ الطَّلَاقِ فَمَنْ طَلَّقَ كَمَا أَمَرَهُ اللهُ فَقَدْ تَبَيَّنَ لَهُ وَمَنْ لَبَسَ عَلَيْهِ جَعَلْنَا بِهِ لُبْسَهُ وَاللهِ لَا تَلْبَسُونَ عَلَى أَنْفُسِكُمْ وَنَتَحَمَّلُهُ عَنْكُمْ هُوَ كَمَا تَقُولُونَ.علقمہ بن قیس رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور اس نے کہا کہ ایک آدمی نے گزشتہ رات اپنی بیوی کو سو طلاقیں دے دی ہیں، انہوں نے دریافت فرمایا کہ کیا اس نے ایک ہی مرتبہ میں یہ بات کہی تھی؟ اس نے کہا: جی ہاں، سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ کیا تمہارا ارادہ یہ تھا کہ تمہاری بیوی تم سے جدا ہو جائے؟ اس نے عرض کیا: جی ہاں، سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ وہ ویسے ہی ہے جیسے تو نے کہہ دیا۔ راوی کہتے ہیں کہ پھر ایک دوسرا شخص آیا اور اس نے کہا کہ ایک مرد نے گزشتہ رات اپنی بیوی کو ستاروں کی تعداد کے برابر طلاقیں دے دی ہیں۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے دریافت فرمایا کہ کیا تو نے اپنی بیوی کو ایک ہی مرتبہ یہ بات کہی ہے؟ اس نے کہا: جی ہاں، سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ کیا تو نے اپنی بیوی کو الگ کرنے کا ارادہ کیا تھا؟ اس نے کہا: جی ہاں، سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ وہ ویسے ہی ہے جیسے تو نے کہا۔ محمد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ انہوں نے اہل زمین کی عورتوں کے متعلق بھی ایک بات کہی تھی، جسے میں یاد نہ رکھ سکا۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اللہ رب العزت نے طلاق کا معاملہ واضح فرما دیا ہے، جس نے ویسے طلاق دی جیسا کہ اللہ رب العزت نے حکم دیا ہے تو اس کے لیے (حکم) واضح ہے، اور جس انسان پر معاملہ خلط ملط ہو گیا تو ہم نے بھی اس پر اسی طرح (فیصلہ) کر دیا۔ اللہ کی قسم! تم اپنے اوپر معاملے کو نہ الجھاؤ اور ہم تم سے وہی قبول کرتے ہیں جیسا کہ تم کہتے ہو۔