السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الخلع والطلاق— خلع اور طلاق کا بیان
باب: الاختيار للزوج أن لا يطلق إلا واحدة باب: شوہر کے لیے اس بات کو پسند کرنے کا بیان کہ وہ صرف ایک ہی طلاق دے۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ، أنا عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، نا ابْنُ صَاعِدٍ، نا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ، نا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، نا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا فِي رَجُلٍ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ أَلْفًا قَالَ: " أَمَّا ثَلَاثٌ فَتَحْرُمُ عَلَيْكَ امْرَأَتُكَ وَبَقِيَّتُهُنَّ عَلَيْكَ وِزْرٌ أَتَّخَذْتَ آيَاتِ اللهِ هُزُوًا؟ " ⦗٥٤٣⦘ فَفِي هَذَا دَلَالَةٌ عَلَى أَنَّهُ جَعَلَ الْوِزْرَ فِيمَا فَوْقَ الثَّلَاثِ وَاللهُ أَعْلَمُ، وَرَوَاهُ الشَّافِعِيُّ عَنِ الزَّنْجِيِّ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ عَنْ عَطَاءٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا فِي مِائَةٍ قَالَ: وَسَبْعٌ وَتِسْعُونَ اتَّخَذْتَ آيَاتِ اللهِ هُزُوًا، قَالَ الشَّافِعِيُّ فَعَابَ عَلَيْهِ ابْنُ عَبَّاسٍ كُلَّ مَا زَادَ مِنْ عَدَدِ الطَّلَاقِ الَّذِي لَمْ يَجْعَلِ اللهُ إِلَيْهِ وَلَمْ يَعِبْ عَلَيْهِ مَا جَعَلَ اللهُ إِلَيْهِ مِنَ الثَّلَاثِ.سعید بن جبیر حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے ایسے شخص کے بارے میں نقل فرماتے ہیں جس نے اپنی بیوی کو ہزار طلاقیں دے دیں، فرمانے لگے: تین طلاقوں نے تیری بیوی کو تجھ پر حرام کر دیا اور باقی تیرے ذمے گناہ ہے جو تو نے اللہ کی آیات کے ساتھ مذاق کیا ہے، تو یہ حدیث تین سے زیادہ طلاقیں دینے کے گناہ پر دلالت کرتی ہے۔
(ب) حضرت عطاء، ابن عباس رضی اللہ عنہما سے 100 سو طلاقوں کے بارے میں نقل فرماتے ہیں کہ 97 ستانوے میں تم نے اللہ کی آیات کے ساتھ مذاق کیا ہے۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے تین سے زیادہ طلاقیں دینے پر عیب لگایا ہے۔