السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الخلع والطلاق— خلع اور طلاق کا بیان
باب: الاختيار للزوج أن لا يطلق إلا واحدة باب: شوہر کے لیے اس بات کو پسند کرنے کا بیان کہ وہ صرف ایک ہی طلاق دے۔
وَأَمَّا الْأَثَرُ الَّذِي أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، نا أَبُو دَاوُدَ، نا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ، نا إِسْمَاعِيلُ، أنا أَيُّوبُ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ كَثِيرٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا فَجَاءَهُ رَجُلٌ فَقَالَ إِنَّهُ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ ثَلَاثًا، قَالَ: فَسَكَتَ حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّهُ رَادُّهَا إِلَيْهِ ثُمَّ قَالَ: يَنْطَلِقُ أَحَدُكُمْ فَيَرْكَبُ الْحُمُوقَةَ ثُمَّ يَقُولُ: يَا ابْنَ عَبَّاسٍ يَا ابْنَ عَبَّاسٍ وَإِنَّ اللهَ جَلَّ ثَنَاؤُهُ قَالَ: {وَمَنْ يَتَّقِ اللهَ يَجْعَلْ لَهُ مَخْرَجًا} [الطلاق: ٢] وَإِنَّكَ لَمْ تَتَّقِ اللهَ فَلَا أَجِدُ لَكَ مَخْرَجًا عَصَيْتَ رَبَّكَ وَبَانَتْ مِنْكَ امْرَأَتُكَ وَإِنَّ اللهَ قَالَ: {يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ إِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ فَطَلِّقُوهُنَّ} [الطلاق: ١] " فِي قُبُلِ عِدَّتِهِنَّ " هَكَذَا فِي هَذِهِ الرِّوَايَةِ ثَلَاثًا.مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس تھا کہ ان کے پاس آکر ایک شخص نے کہا: اس نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دی ہیں۔ راوی کہتے ہیں کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما خاموش ہو گئے، ہم نے گمان کیا کہ اس کی بیوی کو واپس کر دیں گے۔ پھر فرمانے لگے کہ تم میں کوئی ایک بے وقوفی والا کام کرتا ہے، پھر کہتا ہے: اے ابن عباس! اے ابن عباس! اللہ رب العزت فرماتے ہیں: ﴿وَمَنْ يَّتَّقِ اللّٰهَ يَجْعَلْ لَّهٗ مَخْرَجًا﴾ [سورة الطلاق: 2] ”جو اللہ سے ڈرتا ہے اللہ اس کے لیے نکالنے کا راستہ بنا دیتا ہے۔“ آپ اللہ سے ڈرے نہیں، میں آپ کے لیے نکالنے کی راہ نہیں پاتا، آپ نے اللہ کی نافرمانی کی ہے آپ کی بیوی آپ سے جدا ہو گئی۔ اللہ کا فرمان ہے: ﴿يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ إِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ فَطَلِّقُوهُنَّ لِعِدَّتِهِنَّ﴾ [سورة الطلاق: 1] ان تین روایات میں اسی طرح ہے۔