حدیث نمبر: 14941
أَخْبَرَنَاهُ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، نا ابْنُ مِلْحَانَ، نا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، نا اللَّيْثُ، عَنْ نَافِعٍ أَنَّ عَبْدَ اللهِ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ قَالَ: وَكَانَ عَبْدُ اللهِ إِذَا سُئِلَ عَنْ ذَلِكَ قَالَ لِأَحَدِهِمْ: أَمَّا أَنْتَ لَوْ طَلَّقْتَ امْرَأَتَكَ مَرَّةً أَوْ مَرَّتَيْنِ فَإِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَنِي بِهَذَا، وَإِنْ كُنْتَ طَلَّقْتَهَا ثَلَاثًا فَقَدْ حُرِّمَتْ عَلَيْكَ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَكَ، وَعَصَيْتَ اللهَ فِيمَا أَمَرَكَ بِهِ مِنْ طَلَاقِ امْرَأَتِكَ يَعْنِي وَاللهُ أَعْلَمُ لَا رَجْعَةَ فِي الثَّلَاثِ وَإِنَّمَا الرَّجْعَةُ فِي الْمَرَّةِ وَالْمَرَّتَيْنِ يَعْنِي فِي التَّطْلِيقَةِ وَالتَّطْلِيقَتَيْنِ، وَقَوْلُهُ: وَعَصَيْتَ اللهَ فِيمَا أَمَرَكَ مِنْ طَلَاقِ امْرَأَتِكَ، يَعْنِي حِينَ طَلَّقْتَهَا فِي حَالِ الْحَيْضِ فَيَكُونُ قَوْلُهُ هَذَا رَاجِعًا إِلَى أَصْلِ الْمَسْأَلَةِ، وَأَمَّا التَّفْصِيلُ فَإِنَّهُ لِأَجْلِ إِثْبَاتِ الرَّجْعَةِ وَقَطْعِهَا لَا لِتَعْلِيقِ الْمَعْصِيَةِ بِأَحَدِهِمَا دُونَ الْآخَرِ، وَاللهُ أَعْلَمُ وَأَمَّا قَوْلُهُ فِي رِوَايَةِ نَافِعٍ: ثُمَّ يُمْسِكُهَا حَتَّى تَطْهُرَ ثُمَّ تَحِيضَ عِنْدَهُ حَيْضَةً أُخْرَى ثُمَّ يُمْهِلَهَا حَتَّى تَطْهُرَ مِنْ حَيْضَتِهَا، فَقَدْ قَالَ الشَّافِعِيُّ يُحْتَمَلُ أَنْ يَكُونَ إِنَّمَا أَرَادَ بِذَلِكَ الِاسْتِبْرَاءِ أَنْ يَكُونَ يَسْتَبْرِئُهَا بَعْدَ الْحَيْضَةِ الَّتِي طَلَّقَهَا فِيهَا بِطُهْرٍ تَامٍّ ثُمَّ حَيْضٍ تَامٍّ؛ لِيَكُونَ تَطْلِيقُهَا وَهِيَ تَعْلَمُ عِدَّتَهَا الْحَمْلُ هِيَ أَمِ الْحَيْضُ؛ وَلِيَكُونَ يُطَلِّقُ بَعْدَ عِلْمِهِ بِحَمْلٍ وَهُوَ غَيْرُ جَاهِلٍ بِمَا صَنَعَ أَوْ يَرْغَبُ فَيُمْسِكُ لِلْحَمْلِ وَلِيَكُونَ إِنْ كَانَتْ سَأَلَتِ الطَّلَاقَ غَيْرَ حَامِلٍ أَنْ تَكُفَّ عَنْهُ حَامِلًا، ثُمَّ سَاقَ كَلَامَهُ إِلَى أَنْ قَالَ: مَعَ أَنَّ غَيْرَ نَافِعٍ إِنَّمَا رُوِيَ عَنِ ابْنِ عُمَرَ حَتَّى تَطْهُرَ مِنَ الْحَيْضَةِ ⦗٥٤٢⦘ الَّتِي طَلَّقَهَا فِيهَا ثُمَّ إِنْ شَاءَ أَمْسَكَهَا وَإِنْ شَاءَ طَلَّقَ رَوَاهُ يُونُسُ بْنُ جُبَيْرٍ وَأَنَسُ بْنُ سِيرِينَ وَسَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ وَغَيْرُهُ خِلَافَ رِوَايَةِ نَافِعٍ قَالَ الشَّيْخُ: الرِّوَايَةُ فِي ذَلِكَ عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللهِ مُخْتَلِفَةٌ، فَأَمَّا عَنْ غَيْرِهِ فَعَلَى مَا قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ.
حافظ ثناء اللہ

نافع فرماتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”اگر میں ایک یا دو مرتبہ طلاق دے دیتا تو رسول اللہ ﷺ اسی کا حکم دیتے۔“
(ب) نافع فرماتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اپنی بیوی کو حالتِ حیض میں طلاق دے دی۔ انہوں نے حدیث کو ذکر کیا ہے اور سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہما سے اس بارے میں سوال کیا گیا تو وہ فرماتے: ”اگر میں اپنی بیوی کو ایک یا دو مرتبہ طلاق دے دیتا تو رسول اللہ ﷺ مجھے یہی حکم دیتے؛ اگر آپ اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دیں تو وہ کسی دوسرے شخص سے نکاح کرنے سے پہلے آپ پر حرام ہے اور آپ نے اللہ کے اس حکم کی نافرمانی کی جو اس نے عورتوں کو طلاق دینے کے بارے میں کیا ہے، یعنی تین طلاقوں کے بعد رجوع نہیں ہے اور رجوع صرف ایک یا دو طلاقوں کے بعد ہوتا ہے۔“
اور ان کا قول: «وَعَصَیْتَ اللَّہَ فِیمَا أَمَرَکَ مِنْ طَلاَقِ امْرَأَتِکَ» ”اور آپ نے اپنی بیوی کو طلاق دینے کے بارے میں اللہ کے حکم کی نافرمانی کی“، یعنی جب آپ نے حالتِ حیض میں طلاق دی تو بات اصل مسئلہ کی طرف لوٹے گی کہ رجوع کیا جائے یا نہیں، اس کا تعلق نافرمانی سے نہیں ہے۔
نافع کی روایت: «ثُمَّ يُمْسِكُهَا حَتَّى تَطْهُرَ ثُمَّ تَحِيضَ عِنْدَهُ حَيْضَةً أُخْرَى ثُمَّ يُمْهِلُهَا حَتَّى تَطْهُرَ مِنْ حَيْضَتِهَا» ”پھر وہ اسے روکے رکھے یہاں تک کہ وہ پاک ہو جائے، پھر اس کے پاس اسے دوسرا حیض آئے، پھر اسے مہلت دے یہاں تک کہ وہ اپنے حیض سے پاک ہو جائے“؛ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ احتمال ہے کہ اس سے استبراءِ رحم مراد ہو جو ایک طہر اور مکمل حیض سے مراد لیا جا رہا ہے تاکہ معلوم ہو سکے کہ اس کی عدت وضعِ حمل یا حیض مقرر کی جائے یا تو حمل کا معلوم ہونے کے بعد طلاق دے یا حمل کے لیے روک لے۔ اگر اس عورت نے بغیر حمل کے طلاق کا مطالبہ کر دیا تو حمل ہونے تک آپ رک جائیں۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے منقول ہے کہ جس حیض میں طلاق دی وہ اس سے پاک ہو جائے تو پھر طلاق دے یا روک لے۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الخلع والطلاق / حدیث: 14941
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»