السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الخلع والطلاق— خلع اور طلاق کا بیان
باب: الاختيار للزوج أن لا يطلق إلا واحدة باب: شوہر کے لیے اس بات کو پسند کرنے کا بیان کہ وہ صرف ایک ہی طلاق دے۔
قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: لِتَكُونَ لَهُ الرَّجْعَةُ فِي الْمَدْخُولِ بِهَا وَيَكُونَ خَاطِبًا فِي غَيْرِ الْمَدْخُولِ بِهَا وَمَتَى نُكِحَتْ بَقِيَتْ لَهُ عَلَيْهَا اثْنَتَانِ مِنَ الطَّلَاقِ، وَلَا يَحْرُمُ عَلَيْهِ أَنْ يُطَلِّقَ اثْنَتَيْنِ وَلَا ثَلَاثًا لِأَنَّ اللهَ تَعَالَى جَلَّ ثَنَاؤُهُ أَبَاحَ الطَّلَاقَ عَلَى أَهْلِهِ وَمَا أَبَاحَ فَلَيْسَ بِمَحْظُورٍ عَلَى أَهْلِهِ وَأَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَّمَ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا مَوْضِعَ الطَّلَاقِ، وَلَوْ كَانَ فِي عَدَدِ الطَّلَاقِ مُبَاحٌ وَمَحْظُورٌ عَلَّمَهُ إِنْ شَاءَ اللهُ إِيَّاهُ.امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”(ایک طلاق اس لیے دے) تاکہ جس عورت سے دخول ہو چکا ہو اس میں اسے رجوع کا حق حاصل رہے، اور جس سے دخول نہ ہوا ہو اس میں وہ (دوبارہ) نکاح کا پیغام دینے والا بن سکے، اور جب بھی اس سے (دوبارہ) نکاح ہو تو اس پر اس کی دو طلاقیں باقی رہیں۔
اور اس پر دو یا تین طلاقیں دینا حرام نہیں ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ جل ثناؤہ نے طلاق کو اس کے اہل کے لیے مباح قرار دیا ہے، اور جو چیز اس نے مباح کی ہو وہ اس کے اہل پر ممنوع نہیں ہوتی، اور (اس لیے بھی) کہ رسول اللہ ﷺ نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو طلاق کا (صحیح) موقع سکھایا، اور اگر طلاق کی تعداد میں کوئی مباح اور کوئی ممنوع ہوتی تو آپ ﷺ ان شاء اللہ انہیں وہ بھی ضرور سکھا دیتے۔“
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ عَبْدِ اللهِ، أنا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، نا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ نُمَيْرٍ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، أنا أَبُو دَاوُدَ، نا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ قَالَا: نا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، مَوْلَى آلِ طَلْحَةَ، عَنْ سَالِمٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ فَذَكَرَ ذَلِكَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: " مُرْهُ فَلْيُرَاجِعْهَا ثُمَّ لِيُطَلِّقْهَا إِذَا طَهُرَتْ أَوْ وَهِيَ حَامِلٌ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ نُمَيْرٍ. وَاحْتَجَّ الشَّافِعِيُّ أَيْضًا بِمَا ⦗٥٣٨⦘.سالم، حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ انہوں نے اپنی عورت کو حالتِ حیض میں طلاق دے دی تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے نبی ﷺ کو بتایا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس کو حکم دو کہ وہ رجوع کرے، پھر پاک یا حاملہ ہونے کی صورت میں طلاق دے دے۔“