السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الخلع والطلاق— خلع اور طلاق کا بیان
باب: الطلاق يقع على الحائض وإن كان بدعيا باب: اس بیان میں کہ حائضہ کو دی گئی طلاق واقع ہو جاتی ہے اگرچہ وہ طلاقِ بدعی ہو۔
حدیث نمبر: 14923
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ قَالَا: نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ نا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، أنا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ، نا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ، ح وَأنا أَبُو عَبْدِ اللهِ، أنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ نا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أنا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ سِيرِينَ قَالَ: سَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ عَنِ امْرَأَتِهِ الَّتِي طَلَّقَ فَقَالَ: طَلَّقْتُهَا وَهِيَ حَائِضٌ، فَذُكِرَ ذَلِكَ لِعُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَذَكَرَهُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: " مُرْهُ فَلْيُرَاجِعْهَا فَإِذَا طَهُرَتْ فَلْيُطَلِّقْهَا لِطُهْرِهَا " قَالَ: فَرَاجَعْتُهَا ثُمَّ طَلَّقْتُهَا لِطُهْرِهَا، قُلْتُ: فَاعْتَدَّتْ بِتِلْكَ التَّطْلِيقَةِ الَّتِي طُلِّقَتْ وَهِيَ حَائِضٌ، قَالَ: مَالِي لَا أَعْتَدُّ بِهَا وَإِنْ كُنْتَ عَجَزْتَ وَاسْتَحْمَقْتَ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى.حافظ ثناء اللہ
انس بن سیرین فرماتے ہیں کہ میں نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے ان کی بیوی کے بارے میں پوچھا جس کو انہوں نے طلاق دی تھی؟ انہوں نے کہا: میں نے حالتِ حیض میں طلاق دی تھی تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے نبی ﷺ کو بتایا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”اسے حکم دو کہ وہ رجوع کرے۔ جب پاک ہو جائے تو طہر کی حالت میں طلاق دے۔“ کہتے ہیں: میں نے رجوع کر کے حالتِ طہر میں طلاق دے دی۔ میں نے کہا: کیا اس حالتِ حیض میں دی گئی طلاق کو شمار کیا جائے گا؟ فرمانے لگے: مجھے کیا ہے کہ میں اس کو شمار نہ کروں، اگرچہ میں بوڑھا اور بیوقوف ہی کیوں نہ ہو جاؤں۔