السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الخلع والطلاق— خلع اور طلاق کا بیان
باب: ما جاء في طلاق السنة وطلاق البدعة باب: طلاقِ سنت اور طلاقِ بدعت کے متعلق وارد ہونے والی روایات کا بیان۔
حدیث نمبر: 14910
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ غَالِبٍ الْخُوَارِزْمِيُّ الْحَافِظُ بِبَغْدَادَ قَالَ: ⦗٥٣١⦘ قُرِئَ عَلَى أَبِي عَلِيٍّ مُحَمَّدِ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ الْحَسَنِ الصَّوَّافِ وَأَنَا أَسْمَعُ حَدَّثَكُمْ جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفِرْيَابِيُّ نا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُصَفَّى نا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ ثنا الزُّبَيْدِيُّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ أَنَّهُ سُئِلَ عَنْ طَلَاقِ السُّنَّةِ لِلْعِدَّةِ فَقَالَ: أَخْبَرَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ: طَلَّقْتُ امْرَأَتِي فِي حَيَاةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهِيَ حَائِضٌ، فَذَكَرَ ذَلِكَ عُمَرُ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَغَيَّظَ عَلَيَّ فِي ذَلِكَ وَقَالَ: " لِيُرَاجِعْهَا ثُمَّ يُمْسِكْهَا حَتَّى تَحِيضَ حَيْضَةً وَتَطْهُرَ، فَإِنْ شَاءَ أَنْ يُطَلِّقَهَا طَاهِرًا قَبْلَ أَنْ يَمَسَّهَا فَذَلِكَ الطَّلَاقُ لِلْعِدَّةِ كَمَا أَمَرَ اللهُ تَعَالَى " قَالَ عَبْدُ اللهِ: فَرَاجَعْتُهَا وَحَسِبْتُ لَهَا التَّطْلِيقَةَ الَّتِي طَلَّقْتُهَا..حافظ ثناء اللہ
سالم بن عبداللہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میں نے اپنی عورت کو حالتِ حیض میں نبی ﷺ کی زندگی میں طلاق دے دی۔ جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے تذکرہ کیا تو آپ ﷺ مجھ پر غصے ہوئے اور فرمایا: ”وہ رجوع کرے اور روکے رکھے، یہاں تک کہ حیض کے بعد طہر آجائے۔ اگر چاہے تو اس طہر میں بغیر مجامعت کیے طلاق دے دے۔ یہ طلاق کی مدت ہے جس کا اللہ نے حکم دیا ہے۔“ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میں نے رجوع کر لیا اور اس کو صرف ایک ہی طلاق شمار کیا، جو میں نے طلاق دی تھی۔