السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الخلع والطلاق— خلع اور طلاق کا بیان
باب: ما جاء في طلاق السنة وطلاق البدعة باب: طلاقِ سنت اور طلاقِ بدعت کے متعلق وارد ہونے والی روایات کا بیان۔
حدیث نمبر: 14909
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، نا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَخْتَوَيْهِ نا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مِلْحَانَ، نا ابْنُ بُكَيْرٍ، نا اللَّيْثُ، حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ فَذَكَرَ ذَلِكَ عُمَرُ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَغَيَّظَ فِيهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لِيُرَاجِعْهَا ثُمَّ لِيُمْسِكْهَا حَتَّى تَطْهُرَ، ثُمَّ تَحِيضَ ثُمَّ تَطْهُرَ، فَإِنْ بَدَا لَهُ أَنْ يُطَلِّقَهَا فَلْيُطَلِّقْهَا طَاهِرًا قَبْلَ أَنْ يَمَسَّهَا، فَتِلْكَ الْعِدَّةُ كَمَا أَمَرَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ يَحْيَى بْنِ بُكَيْرٍ.حافظ ثناء اللہ
سالم بن عبداللہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اپنی بیوی کو حالتِ حیض میں طلاق دے دی۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ ﷺ کے پاس ذکر کیا تو رسول اللہ ﷺ نے غصہ کیا اور فرمایا: ”رجوع کریں اور طہر تک روکے رکھیں، پھر دوسرے حیض کے بعد طہر کا انتظار کریں، اگر ان کا ارادہ طلاق دینے کا ہو تو مجامعت سے پہلے اس طہر میں طلاق دے دیں۔ یہ وہ مدت ہے جس کا اللہ رب العزت نے حکم دیا ہے۔“