السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الخلع والطلاق— خلع اور طلاق کا بیان
باب: ما جاء في طلاق السنة وطلاق البدعة باب: طلاقِ سنت اور طلاقِ بدعت کے متعلق وارد ہونے والی روایات کا بیان۔
حدیث نمبر: 14907
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو مُحَمَّدِ بْنُ أَبِي حَامِدٍ الْمُقْرِئُ قَالَا: نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ، نا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ الطَّنَافِسِيُّ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: طَلَّقْتُ امْرَأَتِي عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهِيَ حَائِضٌ، فَذَكَرَ ذَلِكَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مُرْهُ فَلْيُرَاجِعْهَا حَتَّى تَطْهُرَ، ثُمَّ تَحِيضَ حَيْضَةً أُخْرَى، فَإِذَا طَهُرَتْ فَلْيُطَلِّقْهَا إِنْ شَاءَ قَبْلَ أَنْ يُجَامِعَهَا أَوْ يُمْسِكْهَا فَإِنَّهَا الْعِدَّةُ الَّتِي أَمَرَ اللهُ تَعَالَى أَنْ تُطَلَّقَ لَهَا النِّسَاءُ " فَقُلْتُ لِنَافِعٍ: مَا صَنَعَتِ التَّطْلِيقَةُ؟ قَالَ: وَاحِدَةً اعْتَدَّتْ بِهَا، أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، مِنْ أَوْجُهٍ عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ.حافظ ثناء اللہ
نافع، حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نقل فرماتے ہیں کہ میں نے اپنی عورت کو نبی ﷺ کے دور میں حالتِ حیض میں طلاق دے دی تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے نبی ﷺ کے سامنے تذکرہ کیا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اسے حکم دو کہ وہ رجوع کرے، یہاں تک کہ وہ پاک ہو جائے، پھر اس کو دوسرا حیض آئے، جب وہ پاک ہو جائے تو اگر چاہے تو طلاق دے دے لیکن مجامعت سے پہلے۔ یہ وہ عدت ہے جس میں اللہ رب العزت نے عورتوں کو طلاق دینے کا حکم دیا ہے۔“ میں نے نافع سے کہا: طلاق یافتہ کیا کرے؟ فرماتے ہیں: وہ ایک طلاق کی عدت گزارے۔