حدیث نمبر: 14906
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا يَحْيَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنا الشَّافِعِيُّ، أنا مَالِكٌ، ح وَأنا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، نا مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ هُوَ الشَّيْبَانِيُّ نا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ السَّلَامِ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو قَالَا: نا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّهُ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مُرْهُ فَلْيُرَاجِعْهَا ثُمَّ لِيَتْرُكْهَا حَتَّى تَطْهُرَ، ثُمَّ تَحِيضَ، ثُمَّ تَطْهُرَ، ثُمَّ إِنْ شَاءَ أَمْسَكَ بَعْدُ وَإِنْ شَاءَ طَلَّقَ قَبْلَ أَنْ يَمَسَّ فَتِلْكَ الْعِدَّةُ الَّتِي أَمَرَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ يُطَلَّقَ لَهَا النِّسَاءُ " وَفِي رِوَايَةِ الشَّافِعِيِّ: ثُمَّ لِيُمْسِكْهَا بَدَلَ قَوْلِهِ: ثُمَّ لِيَتْرُكْ وَلَمْ يَقُلْ بَعْدُ، ⦗٥٣٠⦘ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي أُوَيْسٍ عَنْ مَالِكٍ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى.
حافظ ثناء اللہ

نافع سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کے دور میں اپنی بیوی کو حالتِ حیض میں طلاق دے دی۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس کے بارے میں رسول اللہ ﷺ سے پوچھا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس کو حکم دو کہ وہ رجوع کرلے، پھر اس کو طہر تک چھوڑے رکھے۔ پھر جب حیض کے بعد طہر آئے تو اگر اس کے بعد چاہے تو روک لے یا پھر جماع سے پہلے طلاق دے دے، یہ وہ مدت ہے جس کا اللہ رب العزت نے حکم دیا ہے کہ اس میں عورتوں کو طلاق دی جائے۔“ امام شافعی رحمہ اللہ کی روایت میں «ثُمَّ لِيَتْرُكْ» کے بدلے «ثُمَّ لِيُمْسِكَهَا» کے الفاظ ہیں اور «بَعْدُ» کے الفاظ نہیں کہے۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الخلع والطلاق / حدیث: 14906
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»