حدیث نمبر: 14899
وَأَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، نا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، نا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، نا مُؤَمَّلُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، نا سُفْيَانُ فَذَكَرَهُ مَوْصُولًا إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: " مَا بَالُ رِجَالٍ؟ " وَقَالَ يَقُولُ: أَحَدُكُمْ قَدْ طَلَّقْتُكِ قَدْ رَاجَعْتُكِ، وَكَأَنَّهُ كَرِهَ الِاسْتِكْثَارَ مِنْهُ أَوْ كَرِهَ إِيقَاعَهُ فِي كُلِّ وَقْتٍ مِنْ غَيْرِ مُرَاعَاةٍ لِوَقْتِهِ الْمَسْنُونِ.
حافظ ثناء اللہ

سفیان رحمہ اللہ موصولاً ذکر کرتے ہیں کہ مردوں کی کیا حالت ہے؟ اور فرمایا: ”تم میں سے کوئی کہتا ہے کہ میں نے تجھے طلاق دی، میں نے تم سے رجوع کیا“، آپ ﷺ نے اس زیادتی کو ناپسند فرمایا یا بغیر مسنون وقت کی رعایت رکھے طلاق دینے کو۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الخلع والطلاق / حدیث: 14899
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»