حدیث نمبر: 14896
وَأَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ مِنْ أَصْلِ سَمَاعِهِ أنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَطَّانُ نا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَارِثِ الْبَغْدَادِيُّ، نا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، نا مُعَرَّفُ بْنُ وَاصِلٍ، حَدَّثَنِي مُحَارِبُ بْنُ دِثَارٍ قَالَ: تَزَوَّجَ رَجُلٌ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ امْرَأَةً فَطَلَّقَهَا فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَتَزَوَّجْتَ؟ " قَالَ: نَعَمْ قَالَ: " ثُمَّ مَاذَا؟ " قَالَ: ثُمَّ طَلَّقْتُ قَالَ: " أَمِنْ رِيبَةٍ؟ " قَالَ: لَا قَالَ: " قَدْ يَفْعَلُ ذَلِكَ الرَّجُلُ " قَالَ: ثُمَّ تَزَوَّجَ امْرَأَةً أُخْرَى فَطَلَّقَهَا فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَ ذَلِكَ قَالَ مُعَرَّفٌ: فَمَا أَدْرِي أَعِنْدَ هَذَا أَوْ عِنْدَ الثَّالِثَةِ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّهُ لَيْسَ شَيْءٌ مِنَ الْحَلَالِ أَبْغَضَ إِلَى اللهِ مِنَ الطَّلَاقِ " ⦗٥٢٨⦘ وَرَوَاهُ عُبَيْدُ اللهِ بْنُ الْوَلِيدِ الْوَصَّافِيُّ عَنْ مُحَارِبٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ مَوْصُولًا مُخْتَصَرًا.
حافظ ثناء اللہ

محارب بن دثار فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ کے دور میں ایک شخص نے شادی کے بعد بیوی کو طلاق دے دی تو آپ ﷺ نے اس سے پوچھا: ”کیا تو نے شادی کی ہے؟“ اس نے کہا: ہاں۔ آپ ﷺ نے پوچھا: ”پھر کیا ہوا؟“ اس نے کہا: پھر میں نے طلاق دے دی۔ آپ ﷺ نے پوچھا: ”کیا شک کی وجہ سے؟“ اس نے کہا: نہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کبھی کبھی انسان ایسا کرلیتا ہے۔“ اس نے پھر کسی دوسری عورت سے شادی کرنے کے بعد طلاق دے دی۔ معرف کہتے ہیں: میں نہیں جانتا کہ آپ ﷺ نے اس کو دوسری یا تیسری شادی کے موقع پر یہ الفاظ کہے کہ: ”حلال چیزوں میں سے سب سے زیادہ مبغوض ترین چیز اللہ کے ہاں طلاق ہے۔“

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الخلع والطلاق / حدیث: 14896
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»