السنن الكبرى للبيهقي
كتاب القسم والنشوز— باری مقرر کرنے کا بیان
باب: ما يصبغ به باب: ان چیزوں کا بیان جن سے خضاب لگایا جائے۔
حدیث نمبر: 14825
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، نا أَبُو الْعَبَّاسِ هُوَ الْأَصَمُّ نا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ، نا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ أَبِي قَبِيلٍ الْمَعَافِرِيِّ، أَنَّهُ قَالَ: دَخَلَ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ عَلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَقَدْ صَبَغَ رَأْسَهُ وَلِحْيَتَهُ بِالسَّوَادِ، فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " مَنْ أَنْتَ؟ " قَالَ: أَنَا عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ قَالَ: فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ " عَهْدِي بِكَ شَيْخًا وَأَنْتَ الْيَوْمَ شَابٌّ عَزَمْتُ عَلَيْكَ إِلَّا مَا خَرَجْتَ فَغَسَلْتَ هَذَا السَّوَادَ ".حافظ ثناء اللہ
ابوقبیل معافری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ، حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس آئے تو انہوں نے اپنے سر اور داڑھی کے بالوں کو سیاہ کیا ہوا تھا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرمانے لگے: آپ کون ہیں؟ انہوں نے کہا: میں عمرو بن عاص ہوں۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میرے دور میں تو آپ بوڑھے تھے اور آج جوان ہیں۔ میں نے تیرے خلاف ارادہ کیا تھا مگر تو جا کر اس سیاہی کو دھو ڈال۔