السنن الكبرى للبيهقي
كتاب القسم والنشوز— باری مقرر کرنے کا بیان
باب: ما يصبغ به باب: ان چیزوں کا بیان جن سے خضاب لگایا جائے۔
حدیث نمبر: 14820
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ، نا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ، نا مُحَمَّدُ بْنُ طَلْحَةَ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ وَهْبٍ، عَنْ بَنِي طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِمْ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ: مَرَّ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ وَقَدْ خَضَّبَ بِالْحِنَّاءِ فَقَالَ: " مَا أَحْسَنَ هَذَا " ثُمَّ مَرَّ رَجُلٌ بَعْدَهُ وَقَدْ خَضَّبَ بِالْحِنَّاءِ وَالْكَتَمِ فَقَالَ " هَذَا أَحْسَنُ "، ثُمَّ مَرَّ آخَرُ قَدِ اخْتَضَبَ بِالصُّفْرَةِ فَقَالَ: " هَذَا أَحْسَنُ مِنْ هَذَا كُلِّهِ " قَالَ: وَكَانَ طَاوُسٌ يَخْضِبُ بِالصُّفْرَةِ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس سے ایک شخص گزرا جس نے مہندی کے ساتھ بالوں کو رنگا ہوا تھا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ کتنا اچھا ہے۔“ پھر آپ ﷺ کے پاس سے دوسرا آدمی گزرا، جس نے بالوں کو مہندی اور وسمہ سے رنگا ہوا تھا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ اس سے بھی زیادہ اچھا ہے،“ پھر ایک دوسرا آدمی آپ ﷺ کے پاس سے گزرا جس نے بالوں کو زرد رنگ سے رنگا ہوا تھا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ ان تمام سے بہتر ہے۔“ فرماتے ہیں کہ طاؤس بالوں کو زرد رنگ سے رنگتے تھے۔