السنن الكبرى للبيهقي
كتاب القسم والنشوز— باری مقرر کرنے کا بیان
باب: المتشبع بما لم ينل ولم ينهى عنه من افتخار الضرة باب: اس شخص کا بیان جو وہ چیز ظاہر کرے جو اسے نہیں ملی، اور سوکن پر فخر کرنے کی ممانعت کا بیان۔
حدیث نمبر: 14795
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ نا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ الْحَارِثِيُّ، نا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ الْمُنْذِرِ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ أَيَصْلُحُ لِي أَنْ أَقُولَ أَعْطَانِي زَوْجِي وَلَمْ يُعْطِنِي إِنَّ عَلَيَّ ضَرَّةٌ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْمُتَشَبِّعُ بِمَا لَمْ يُعْطَ كَلَابِسِ ثَوْبَيْ زُورٍ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ عَنْ أَبِي أُسَامَةَ، وَأَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ، وَمُسْلِمٌ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ هِشَامٍ.حافظ ثناء اللہ
سیدہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ایک عورت نے رسول اللہ ﷺ کے پاس آ کر عرض کیا: کیا میرے لیے یہ درست ہے کہ میں کہوں کہ میرے خاوند نے فلاں چیز مجھے دی ہے، حالانکہ اس نے مجھے کچھ بھی نہیں دیا ہوتا؟ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ایسی چیز کا اظہار کرنا جو دی نہیں گئی جھوٹ کے دو کپڑے پہننے کی مانند ہے۔“