السنن الكبرى للبيهقي
كتاب القسم والنشوز— باری مقرر کرنے کا بیان
باب: الحكمين في الشقاق بين الزوجين باب: میاں بیوی کے درمیان شدید اختلاف پیدا ہونے پر دو ثالث مقرر کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 14792
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ نا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ، نا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، نا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ قَالَ: سَأَلْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ عَنِ الْحَكَمَيْنِ، فَقَالَ لَمْ أُدْرِكْ إِذْ ذَاكَ، فَقُلْتُ: إِنَّمَا أَسْأَلُكَ عَنِ الْحَكَمَيْنِ اللَّذَيْنِ فِي كِتَابِ اللهِ أَعْنِي الْقُرْآنَ، قَالَ: " يَبْعَثُ حَكَمًا مِنْ أَهْلِهِ وَحَكَمًا مِنْ أَهْلِهَا فَيُكَلِّمُونَ أَحَدَهُمَا وَيَعِظُونَهُ فَإِنْ رَجَعَ وَإِلَّا كَلَّمُوا الْآخَرَ وَوَعَظُوهُ فَإِنْ رَجَعَ وَإِلَّا حَكَمَا فَمَا حَكَمَا مِنْ شَيْءٍ فَهُوَ جَائِزٌ ".حافظ ثناء اللہ
عمرو بن مرہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جس نے سعید بن جبیر رحمہ اللہ سے دو فیصلہ کرنے والوں کے بارے میں پوچھا تو فرمانے لگے: مجھے معلوم نہیں، لیکن میں کتاب اللہ یعنی قرآن مجید سے پوچھوں گا، راوی کہتے ہیں: وہ میاں بیوی دونوں میں سے ہر ایک کو وعظ و نصیحت کریں گے، اگر ایک مان جائے تو پھر دوسرے سے بات کریں، اگر وہ بھی مان جائے تو درست، وگرنہ جو بھی دونوں فیصل فیصلہ کر دیں۔