السنن الكبرى للبيهقي
كتاب القسم والنشوز— باری مقرر کرنے کا بیان
باب: الحكمين في الشقاق بين الزوجين باب: میاں بیوی کے درمیان شدید اختلاف پیدا ہونے پر دو ثالث مقرر کرنے کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ نا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ، نا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، نا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ قَالَ: سَأَلْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ عَنِ الْحَكَمَيْنِ، فَقَالَ لَمْ أُدْرِكْ إِذْ ذَاكَ، فَقُلْتُ: إِنَّمَا أَسْأَلُكَ عَنِ الْحَكَمَيْنِ اللَّذَيْنِ فِي كِتَابِ اللهِ أَعْنِي الْقُرْآنَ، قَالَ: " يَبْعَثُ حَكَمًا مِنْ أَهْلِهِ وَحَكَمًا مِنْ أَهْلِهَا فَيُكَلِّمُونَ أَحَدَهُمَا وَيَعِظُونَهُ فَإِنْ رَجَعَ وَإِلَّا كَلَّمُوا الْآخَرَ وَوَعَظُوهُ فَإِنْ رَجَعَ وَإِلَّا حَكَمَا فَمَا حَكَمَا مِنْ شَيْءٍ فَهُوَ جَائِزٌ ".عمرو بن مرہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے سعید بن جبیر رحمہ اللہ سے دو فیصلہ کرنے والوں کے بارے میں پوچھا تو فرمانے لگے: میں نے وہ زمانہ نہیں پایا۔ میں نے کہا: میں تو آپ سے ان دو فیصلہ کرنے والوں کے بارے میں پوچھ رہا ہوں جن کا ذکر کتاب اللہ یعنی قرآن مجید میں ہے، تو انہوں نے فرمایا: ایک فیصل مرد کے خاندان سے اور ایک فیصل عورت کے خاندان سے بھیجا جائے گا، وہ میاں بیوی میں سے ایک سے بات کریں گے اور اسے وعظ و نصیحت کریں گے، اگر وہ مان جائے تو درست، وگرنہ دوسرے سے بات کریں گے اور اسے وعظ و نصیحت کریں گے، اگر وہ بھی مان جائے تو درست، وگرنہ وہ دونوں فیصلہ کر دیں گے، پھر جو بھی دونوں فیصل فیصلہ کر دیں وہ جائز ہے۔