السنن الكبرى للبيهقي
كتاب القسم والنشوز— باری مقرر کرنے کا بیان
باب: ما جاء في ضربها باب: عورت کو مارنے (سزا دینے) کے متعلق وارد ہونے والی روایات کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مَحْمَشٍ الْفَقِيهُ أنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَطَّانُ نا أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ السُّلَمِيُّ، نا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ إِيَاسِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي ذُبَابٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " " لَا تَضْرِبُوا إِمَاءَ اللهِ " " قَالَ: فَذَئِرَ النِّسَاءُ وَسَاءَتْ أَخْلَاقُهُنَّ عَلَى أَزْوَاجِهِنَّ، فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَا رَسُولَ اللهِ: ذَئِرَ النِّسَاءُ وَسَاءَتْ أَخْلَاقُهُنَّ عَلَى أَزْوَاجِهِنَّ مُنْذُ نَهَيْتَ عَنْ ضَرْبِهِنَّ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " " فَاضْرِبُوهُنَّ " "، قَالَ: فَضَرَبَ النَّاسُ نِسَاءَهُمْ تِلْكَ اللَّيْلَةَ قَالَ: فَأَتَى نِسَاءٌ كَثِيرٌ يَشْتَكِينَ الضَّرْبَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ أَصْبَحَ: " " لَقَدْ طَافَ بِآلِ مُحَمَّدٍ اللَّيْلَةَ سَبْعُونَ امْرَأَةً كُلُّهُنَّ يَشْتَكِينَ الضَّرْبَ وَايْمُ اللهِ لَا تَجِدُونَ أُولَئِكَ خِيَارَكُمْ " " بَلَغَنَا عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْمَاعِيلَ الْبُخَارِيِّ أَنَّهُ قَالَ: لَا يُعْرَفُ لِإِيَاسٍ صُحْبَةٌ، قَالَ الشَّيْخُ: وَقَدْ رُوِيَ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ مُرْسَلًا.سیدنا ایاس بن عبداللہ بن ابی ذباب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تم اللہ کی بندیوں کو نہ مارو۔“ کہنے لگے: عورتیں دلیر ہوگئی ہیں اور اپنے خاوندوں سے برے اخلاق سے پیش آتی ہیں۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کہنے لگے: اے اللہ کے رسول! عورتیں دلیر ہوگئی ہیں اور ان کے اخلاق خاوندوں کے خلاف بگڑ گئے ہیں جب سے آپ نے ان کو مارنے سے منع کیا ہے، نبی ﷺ نے فرمایا: ”ان کو مارو۔“ راوی کہتے ہیں: لوگوں نے اس رات اپنی عورتوں کی پٹائی کی۔ راوی کہتے ہیں: بہت ساری عورتیں پٹائی کی شکایت لے کر حاضر ہوگئیں، نبی ﷺ نے جب صبح کی تو فرمایا: ”آلِ محمد ﷺ کے پاس ۷۰ عورتیں آئیں، وہ ساری کی ساری مار کی شکایت کر رہی تھیں، اللہ کی قسم! تم ایسے لوگوں کو اچھے لوگ نہیں پاؤ گے۔“