السنن الكبرى للبيهقي
كتاب القسم والنشوز— باری مقرر کرنے کا بیان
باب: الحال التي يختلف فيها حال النساء باب: اس صورت حال کا بیان جس میں عورتوں (بیویوں کی باری) کے احوال مختلف ہوتے ہیں۔
حدیث نمبر: 14761
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ قَالَا: نا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ قُتَيْبَةَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ السَّلَامِ قَالَا: ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أنا هُشَيْمٌ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَنَسٍ قَالَ: " إِذَا تَزَوَّجَ الْبِكْرَ عَلَى الثَّيِّبِ أَقَامَ عِنْدَهَا سَبْعًا، وَإِذَا تَزَوَّجَ الثَّيِّبَ عَلَى الْبِكْرِ أَقَامَ عِنْدَهَا ثَلَاثًا " وَلَوْ قُلْتَ إِنَّهُ رَفَعَهُ صَدَقْتَ وَلَكِنَّهُ قَالَ: السُّنَّةُ كَذَلِكَ، رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى، وَأَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ مِنْ حَدِيثِ بِشْرِ بْنِ الْمُفَضَّلِ عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ.حافظ ثناء اللہ
ابوقلابہ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ: ”جب آپ کنواری سے بیوہ کی موجودگی میں شادی کریں تو اس کے ہاں سات دن قیام کرنا اور جب بیوہ سے شادی کرو کنواری کی موجودگی میں تو اس کے ہاں تین دن قیام کرو۔“ اگر میں کہوں کہ وہ اسے مرفوع بیان کرتے ہیں تو میں سچ کہہ رہا ہوں، کیونکہ وہ اسے سنت کہتے ہیں۔