السنن الكبرى للبيهقي
كتاب القسم والنشوز— باری مقرر کرنے کا بیان
باب: ما جاء في قول الله عز وجل: ولن تستطيعوا أن تعدلوا بين النساء ولو حرصتم فلا تميلوا كل الميل فتذروها كالمعلقة باب: اللہ عزوجل کے اس فرمان ”اور تم ہرگز اس بات کی طاقت نہیں رکھتے کہ عورتوں کے درمیان مکمل عدل کر سکو، خواہ تم کتنا ہی چاہو، پس تم کسی ایک کی طرف اس طرح مکمل نہ جھک جاؤ کہ دوسری کو لٹکتی ہوئی چھوڑ دو“ کے متعلق وارد ہونے والی روایات کا بیان۔
حدیث نمبر: 14745
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الصَّفَّارُ نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي، نا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، نا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْسِمُ فَيَعْدِلُ فَيَقُولُ: " اللهُمَّ هَذَا قَسْمِي فِيمَا أَمْلِكُ وَلَا تَلُمْنِي فِيمَا تَمْلِكُ وَلَا أَمْلِكُ " قَالَ الْقَاضِي: " يَعْنِي الْقَلْبَ، وَهَذَا فِي الْعَدْلِ بَيْنَ نِسَائِهِ " قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: " وَبَلَغَنَا أَنَّهُ كَانَ يُطَافُ بِهِ مَحْمُولًا فِي مَرَضِهِ عَلَى نِسَائِهِ حَتَّى حَلَلْنَهُ ".حافظ ثناء اللہ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ باری کی تقسیم میں انصاف فرماتے اور کہتے تھے: «اللَّهُمَّ هَذَا قَسْمِي فِيمَا أَمْلِكُ، فَلَا تَلُمْنِي فِيمَا تَمْلِكُ وَلَا أَمْلِكُ» ”اے اللہ! یہ میری تقسیم ہے جس کا میں مالک ہوں تو مجھے اس کے بارے میں ملامت نہ کرنا جس کا تو مالک ہے، میں مالک نہیں ہوں۔“ قاضی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: دل مراد ہے اور یہ عدل عورتوں کے درمیان ہے، امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ اسی حساب سے اپنی عورتوں کے پاس آیا کرتے تھے یہاں تک کہ انہوں نے بیماری کی حالت میں اجازت دے دی۔