السنن الكبرى للبيهقي
كتاب القسم والنشوز— باری مقرر کرنے کا بیان
باب: ما جاء في قول الله عز وجل: ولن تستطيعوا أن تعدلوا بين النساء ولو حرصتم فلا تميلوا كل الميل فتذروها كالمعلقة باب: اللہ عزوجل کے اس فرمان ”اور تم ہرگز اس بات کی طاقت نہیں رکھتے کہ عورتوں کے درمیان مکمل عدل کر سکو، خواہ تم کتنا ہی چاہو، پس تم کسی ایک کی طرف اس طرح مکمل نہ جھک جاؤ کہ دوسری کو لٹکتی ہوئی چھوڑ دو“ کے متعلق وارد ہونے والی روایات کا بیان۔
حدیث نمبر: 14744
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ، بِبَغْدَادَ أنا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّزَّازُ نا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شَاكِرٍ، نا عَفَّانُ، نا هَمَّامٌ، وَحَمَّادٌ، وَأَبَانُ، وَأَبُو عَوَانَةَ كُلُّهُمْ يُحَدِّثُنِي عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِنَّ اللهَ تَعَالَى تَجَاوَزَ لِأُمَّتِي مَا حَدَّثَتْ بِهِ أَنْفُسَهَا مَا لَمْ يَتَكَلَّمُوا بِهِ أَوْ يَعْمَلُوا " ⦗٤٨٧⦘ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ أَبِي عَوَانَةَ. وَأَخْرَجَاهُ مِنْ أَوْجُهٍ عَنْ قَتَادَةَ. قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: وَبَلَغَنَا أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقْسِمُ فَيَعْدِلُ ثُمَّ يَقُولُ: " اللهُمَّ هَذَا قَسْمِي فِيمَا أَمْلِكُ، وَأَنْتَ أَعْلَمُ بِمَا لَا أَمْلِكُ "، يَعْنِي وَاللهُ أَعْلَمُ قَلْبَهُ.حافظ ثناء اللہ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے میری امت کے خیالات کو معاف کر دیا ہے جب تک وہ کلام یا عمل نہ کریں۔“
(ب) امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہمیں خبر ملی کہ رسول اللہ ﷺ باری تقسیم کرتے وقت عدل فرماتے، پھر فرماتے: «اللَّهُمَّ هَذَا قِسْمِي فِيمَا أَمْلِكُ، فَلَا تَلُمْنِي فِيمَا تَمْلِكُ وَلَا أَمْلِكُ» ”اے اللہ! یہ میری تقسیم ہے جس کا میں مالک ہوں اور تو خوب جانتا ہے جو میرے بس میں نہیں ہے۔“