حدیث نمبر: 14725
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، نا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَطَّانُ نا أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ، نا عُمَرُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ رَزِينٍ، نا سُفْيَانُ لَفْظًا عَنْ دَاوُدَ الْوَرَّاقِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ مُعَاوِيَةَ بْنِ حَيْدَةَ الْقُشَيْرِيِّ قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا رُفِعْتُ إِلَيْهِ قَالَ: " أَمَا إِنِّي سَأَلْتُ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ يُعَيِّنِّي عَلَيْكُمْ بِالسُّنَّةِ نُخِيفُكُمْ وَبِالرُّعْبِ أَنْ يَجْعَلَهُ فِي قُلُوبِكُمْ " قَالَ: فَقَالَ بِيَدَيْهِ جَمِيعًا أَمَا إِنِّي قَدْ حَلَفْتُ هَكَذَا وَهَكَذَا أَنْ لَا أُؤْمِنَ بِكَ وَلَا أَتَّبِعَكَ فَمَا زَالَتِ السُّنَّةُ تُخِيفُنِي، وَالرُّعْبُ يُجْعَلُ فِي قَلْبِي حَتَّى قُمْتُ بَيْنَ يَدَيْكَ أَمَا لِلَّهِ الَّذِي أَرْسَلَكَ أَهُوَ الَّذِي أَرْسَلَكَ بِمَا تَقُولُ؟ قَالَ: " نَعَمْ " قَالَ: فَهُوَ أَمَرَكَ بِمَا تَأْمُرُنَا؟ قَالَ: " نَعَمْ " قَالَ: فَمَا تَقُولُ فِي نِسَائِنَا؟ قَالَ: " هُنَّ حَرْثٌ لَكُمْ فَأْتُوا حَرْثَكُمْ أَنَّى شِئْتُمْ وَأَطْعِمُوهُنَّ مِمَّا تَأْكُلُونَ وَاكْسُوهُنَّ مِمَّا تَكْسُونَ وَلَا تَضْرِبُوهُنَّ وَلَا تُقَبِّحُوهُنَّ " قَالَ: فَيَنْظُرُ أَحَدُنَا إِلَى عَوْرَةِ أَخِيهِ إِذَا اجْتَمَعْنَا؟ قَالَ: " لَا " قَالَ: فَإِذَا تَفَرَّقْنَا؟ قَالَ: فَضَمَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِحْدَى فَخِذَيْهِ إِلَى ⦗٤٨٢⦘ الْأُخْرَى ثُمَّ قَالَ: " اللهُ أَحَقُّ أَنْ تَسْتَحْيُوا مِنْهُ "، قَالَ: وَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: " يُحْشَرُ النَّاسُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَيْهِمُ الْقُدَامُ فَأَوَّلُ مَا يَنْطِقُ مِنَ الْإِنْسَانِ كَفُّهُ وَفَخِذُهُ ".
حافظ ثناء اللہ

سعید بن حکیم اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا، جب میں آپ ﷺ کے سامنے پیش کیا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں نے اللہ رب العزت سے سوال کیا ہے کہ وہ تمہارے خلاف میری مدد کرے، ایسی قحط سالی کے ذریعے جو تمہیں ہلاک کر دے اور ایسے رعب کے ذریعے جو تمہارے دلوں میں بیٹھ جائے۔“ راوی کہتے ہیں کہ وہ آپ ﷺ کے سامنے ہوا اور کہنے لگا: میں نے اس طرح قسم کھائی ہے کہ میں آپ ﷺ پر ایمان نہ لاؤں گا اور نہ آپ ﷺ کی پیروی کروں گا یہاں تک کہ قحط سالی مجھے برباد کر دے اور میرے دل میں رعب بیٹھ جائے اور میں آپ ﷺ کے سامنے کھڑا کیا جاؤں۔ کیا اللہ کی قسم! اللہ نے آپ ﷺ کو مبعوث کیا ہے اور جو آپ ﷺ کہہ رہے ہیں کیا یہ اللہ کا حکم ہے؟ فرمایا: ”ہاں۔“ اس نے کہا: جو آپ ہمیں حکم دے رہے ہیں یہ اللہ نے آپ کو دیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں۔“ اس نے کہا: آپ ہماری عورتوں کے بارے میں کیا کہتے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ تمہاری کھیتیاں ہیں، تم اپنی کھیتی میں آؤ جیسے چاہو اور ان کو کھلاؤ جہاں سے تم کھاتے ہو اور ان کو پہناؤ جو تم پہنتے ہو اور تم ان کو نہ مارو اور نہ برا بھلا کہو۔“ اس نے کہا: جب ہم جمع ہوں تو کیا ایک دوسرے کی شرمگاہ کو دیکھ سکتے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”نہیں۔“ اس نے کہا: جب ہم جدا جدا ہوں؟ تب کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنی ایک ران پر دوسری ران کو رکھا اور فرمایا: ”اللہ زیادہ حق دار ہے کہ تم اس سے حیا کرو۔“ کہتے ہیں کہ میں نے آپ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: ”قیامت کے دن لوگوں کو جمع کیا جائے گا، ان کے منہ بند کر دیے جائیں گے تو انسان کی سب سے پہلے ہتھیلی اور ران کلام کرے گی۔“

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب القسم والنشوز / حدیث: 14725
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»