السنن الكبرى للبيهقي
كتاب القسم والنشوز— باری مقرر کرنے کا بیان
باب: حق المرأة على الرجل باب: مرد پر عورت کے حق کا بیان۔
حدیث نمبر: 14724
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، نا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ نا أَبِي، نا عَمْرُو بْنُ زُرَارَةَ، نا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، نا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَابِرٍ، فِي قِصَّةِ حَجِّ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَخُطْبَتِهِ بِعَرَفَةَ قَالَ: " فَاتَّقُوا اللهَ فِي النِّسَاءِ فَإِنَّكُمْ أَخَذْتُمُوهُنَّ بِأَمَانَةِ اللهِ وَاسْتَحْلَلْتُمْ فُرُوجَهُنَّ بِكَلِمَةِ اللهِ وَإِنَّ لَكُمْ عَلَيْهِنَّ أَنْ لَا يُوطِئْنَ فُرُشَكُمْ أَحَدًا تَكْرَهُونَهُ فَإِنْ فَعَلْنَ فَاضْرِبُوهُنَّ ضَرْبًا غَيْرَ مُبَرِّحٍ وَلَهُنَّ عَلَيْكُمْ رِزْقُهُنَّ وَكِسْوَتُهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ " أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ حَاتِمِ بْنِ إِسْمَاعِيلَ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نبی ﷺ کے حج کے قصے اور آپ ﷺ کے عرفہ میں خطبہ دینے کے بارے میں ارشاد فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم عورتوں کے بارے میں اللہ سے ڈر جاؤ، کیونکہ تم نے ان کو اللہ کی امانت سمجھ کر لیا ہے اور نکاح کے ذریعے تم نے ان کی شرمگاہوں کو حلال کیا ہے اور بیشک تمہارا ان کے ذمے یہ حق ہے کہ جن کو تم ناپسند کرتے ہو وہ تمہارے بستر پر کبھی نہ آئیں۔ اگر وہ عورتیں ایسا کریں تو ان کو نہ ظاہر ہونے والی مار مارو اور عورتوں کا حق تمہارے ذمے یہ ہے کہ ان کو کھلانا اور اچھائی کے ساتھ پہنانا۔“