السنن الكبرى للبيهقي
كتاب القسم والنشوز— باری مقرر کرنے کا بیان
باب: ما يستحب لها رعاية لحق زوجها وإن لم يلزمها شرعا باب: اس بیان میں کہ عورت کے لیے اپنے شوہر کے حق کی رعایت کرنا مستحب ہے اگرچہ وہ شرعی طور پر اس پر لازم نہ ہو۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظِ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي، نا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، نا شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى قَالَ سُلَيْمَانُ: أَظُنُّهُ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: شَكَتْ فَاطِمَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا مَا تَلْقَى مِنْ أَثَرِ الرَّحَى فِي يَدِهَا قَالَ: فَذَهَبَتْ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَسْأَلُهُ خَادِمًا فَلَمْ تَرَهُ قَالَ: فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِعَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، فَلَمَّا جَاءَ ذَكَرْتُ لَهُ قَالَ: فَجَاءَنَا وَقَدْ أَخَذْنَا مَضَاجِعَنَا فَذَهَبْتُ أَقُومُ فَقَالَ: مَكَانَكِ ثُمَّ جَلَسَ بَيْنَنَا حَتَّى وَجَدْتُ بَرْدَ قَدَمَيْهِ عَلَى صَدْرِي فَقَالَ: " أَلَا أَدُلُّكُمَا عَلَى مَا هُوَ خَيْرٌ لَكُمَا مِنْ خَادِمٍ إِذَا أَخَذْتُمَا مَضَاجِعَكُمَا فَسَبِّحَا ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ وَاحْمِدَا ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ وَكَبِّرَا أَرْبَعًا وَثَلَاثِينَ فَهُوَ خَيْرٌ لَكُمْ مِنْ خَادِمٍ " وَقَالَ خَالِدٌ عَنِ ابْنِ سِيرِينَ: التَّسْبِيحُ أَرْبَعًا وَثَلَاثِينَ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ حَرْبٍ وَلَمْ يَذْكُرِ الشَّكَّ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ، مِنْ أَوْجُهٍ عَنْ شُعْبَةَ.سلمان رضی اللہ عنہ، سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے چکی پیسنے کی وجہ سے جو نشانات ان کے ہاتھ میں پڑ گئے تھے اس کی شکایت کی۔ راوی کہتے ہیں کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس خادم مانگنے گئیں تو آپ ﷺ نے ان کی طرف دھیان نہ دیا۔ راوی کہتا ہے کہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے اس کا تذکرہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے کیا، جب آپ ﷺ تشریف لائے تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے آپ ﷺ کو بتایا۔ راوی کہتے ہیں کہ آپ ﷺ ہمارے پاس تشریف لائے، ہم سونے کی تیاری کر رہے تھے تو میں اٹھا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اپنی جگہ پر رہو“، پھر آپ ﷺ ہمارے درمیان بیٹھ گئے تو میں نے آپ ﷺ کے پاؤں کی ٹھنڈک اپنے سینے میں محسوس کی۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا میں تم دونوں کو وہ چیز نہ بتاؤں جو تمہارے لیے خادم سے بھی بہتر ہو؟ جب تم دونوں سونے لگو تو ۳۳ بار «سُبْحَانَ اللهِ» ”سبحان اللہ“، ۳۳ بار «الْحَمْدُ لِلّٰهِ» ”الحمد للہ“ اور ۳۴ بار «اَللهُ أَكْبَرُ» ”اللہ اکبر“ پڑھ لیا کرو، یہ تمہارے لیے خادم سے بھی بہتر ہے۔“ خالد، ابن سیرین سے نقل فرماتے ہیں کہ «سُبْحَانَ اللهِ» ”سبحان اللہ“ ۳۴ مرتبہ۔